انوارالعلوم (جلد 7) — Page 62
۶۲ نجات مغضوب تھے۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ سب سے زیاده ابتلاء نبیوں پر آتے ہیں۔اور رسول کریم ﷺ اور حضرت مسیح موعودؑ کی زندگیوں سے معلوم ہواہے کہ یہی درست ہے مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی بات ہے کہ ان کے لئے تکالیف انعام کا باعث تھیں اور مخالفین پر جو تکلیفیں آئیں وہ عذاب تھیں۔مصائب بطور انعام اب یہ سوال ہو گا کہ مصائب انعام کس طرح ہوسکتی ہیں؟ اس کے متعلق یاد رکھا جائے کہ مومنوں پر مصائب کے آنے کی چار غرضیں ہوتی ہیں۔(۱) جب کوئی مصیبت مومن پر آتی ہے تو اس لئے کہ مومن کو اپنے ایمان کا پتہ لگ جائے۔شاید بہت سے لوگ حیران ہوں گے کہ اپنے ایمان کا اپنا اپنے آپ کو لگنے کا کیا مطلب ہوا؟ اس کو تو ہرانسان جانتا ہے مگر جب میں بتاؤں گاتو معلوم ہو جائے گا کہ یہ کیسی کی بات ہے اس کے لئے میں ایک قصہ سناتاہوں جو پہلے بھی کئی بار سنایا گیا ہے۔ایک عورت جس کانام محسنی تھا۔اس کی لڑکی بیمار تھی۔ماں اس کے لئے دعا کرتی رہی کہ یہ بچ جاۓ اور اس کی بیماری مجھے لگ جائے اور میں مرجاؤں۔ایک دن رات کے وقت گائے کھل گئی اورایک برتن میں اس نے منہ ڈالا جس میں اس کا سرپھنس گیا۔وہ برتن کو اٹھائے اندر گئی اسے دیکھ کر اس عورت نے سمجھا کہ یہ ملک الموت جان نکالنے کے لئے آیا ہے۔یہ خیال کر کے وہ کہنے کی ”ملک الموت من نہ محسنی ام من کے پیرزال محنتی ام» - اے ملک الموت میں محسنی نہیں ہوں میں تو ایک بڑھیا مزدوری پیشہ ہوں۔پھر لڑکی کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ محسنی وہ لیٹی ہے۔لیکن میری جان نہ نکال اس کی نکال لے۔وہ پہلے تو اپنی محبت کے تقاضا سے دعا کرتی رہی کہ اس کی بجائے میں مرجاؤں لیکن جب اس نے سمجھا کہ وقت آگیا۔تو ہمت ہار گئی اور اسے معلوم ہوا کہ اس کی محبت سچی نہ تھی بلکہ جھوٹی تھی۔میں اس کے متعلق ایک عام اور موٹی مثال دیتا ہوں۔لڑائی کی خبریں اخبار میں پڑھتے وقت ہر انسان سمجھتا ہے کہ اگر میں لڑائی میں ہوں تو اس طرح بہادری دکھاؤں اور اس طرح دکھاؤں۔لیکن خبروں کو سن کر اپنی بہادری کے خیالی پلاؤ پکانے والے لوگوں میں سے ہی بھرتی ہو کر لوگ جنگ میں جاتے ہیں اور وہاں ان کی حالت الٹ ثابت ہوتی ہے۔بات یہ ہے کہ انسان کو بعض اوقات اپنا نفس دھوکا دے رہا ہوتا ہے۔اور جب وقت آتا ہے تو حقیقت کھل جاتی ہے۔