انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page viii of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page viii

انوار العلوم جلد ہے تعارف کتب بنیادی امور یہ بیان فرمائے ہیں کہ گناہوں سے بچا جائے اور روحانیت پر اثر ڈالنے والے نیک اعمال کئے جائیں۔ اس ضمن میں حضور نے تین قسم کی روحانی بیماریوں یا گناہوں کا ذکر فرمایا ہے جن سے بچنا ضروری ہے۔ اول وہ بیماریاں جن کا تعلق انسان کی اپنی ذات سے ہی ہوتا ہے۔ دوم وہ بیماریاں جو دوسروں پر اثر ڈالنے والی ہوتی ہیں۔ اور سوم خدا تعالیٰ سے متعلق معاصی - ان روحانی بیماریوں اور معاصی کے بالمقابل حضور نے تین قسم کی نیکیوں کے بجالانے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اول ذاتی نیکیاں، دوم بنی نوع انسان سے تعلق رکھنے والی نیکیاں اور سوم خدا تعالٰی سے تعلق رکھنے والی نیکیاں۔ فرض حضور نے اپنی اس مختصر تقریر میں وہ تمام اہم امور بیان فرما دیتے ہیں جو نفس انسانی کو نفسانی آلائشوں سے پاک کرنے اور اسے روحانی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کیلئے ضروری ہیں۔ اپنے خطاب کے آخر میں حضور نے کارکنوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ۔ سیکرٹریوں اور دوسرے کارکنوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ لوگوں سے اخلاق اور نرمی سے پیش آؤ ۔ ہمارے پاس حکومت نہیں ہے۔ ہمیں جو کچھ ملا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملا ہے۔ اور آپ فرماتے ہیں۔ منه از بهر ما کری که ماموریم خدمت را جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ فرماتے ہیں تو ہمیں بھی اپنے آپ کو لوگوں کا خادم سمجھنا چاہئے۔ حضور نے خدمت دین کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا ! " غرض آپ لوگوں سے التجا کرتا ہوں کہ آپس میں بھائیوں کی طرح رہو۔ اور دین کی خدمت سے کرتاہوں کیلئے کمر بستہ ہو جاؤ۔ جو کام ہمارے سپرد ہوا ہے۔ اسے خدا کا فضل سمجھو اد ریا درکھو کہ خدا ہمار امحتاج نہیں ، ہمارے کام وہی آئے گا جو ہم یہاں کر جائیں گے۔ پس اے عزیزو! پیشتر اس کے کہ خدا کی رحمت کے دروازے بند ہو جائیں۔ ان میں داخل ہو جاؤ ۔ تم کلی طور پر خدا کیلئے ہو جاؤ خدا کے لئے سب کام کرو، خدا کیلئے مرد اور خدا کیلئے جیئو ۔ خدا تعالٰی میرے بھی ساتھ ہو اور آپ کے بھی ساتھ ہو"۔