انوارالعلوم (جلد 7) — Page 56
انوار العلوم - جلدے ۵۶ نجات اسلامی نقطہ نگاہ کی رو سے نجات اوئی ہے اور وہ مقصد اعلیٰ۔ وہ کیا ہے ؟ وہ وہی ہے جو ان آیات میں بتایا گیا ہے جو میں نے ابتداء میں پڑھی ہیں یعنی فلاح - اسلام کہتا ہے اصل کامیابی بیچ جانا نہیں اور تکلیف اور دکھ سے بچ جانا کوئی بڑی بات نہیں۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ فلاں بڑا بہادر جرنیل ہے جو دشمن سے بیچ کر بھاگ آیا ۔ بھاگ آنا بھی کسی موقع پر اچھی بات ہوتی ہے مگر اس سے اعلیٰ بات یہ ہے کہ دشمن کو پکڑ بھی لے۔ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ صرف نجات کے حصول اسلام نجات کی بجائے فلاح بتاتا ہے کی کوشش نہ کرو بلکہ فلاح کے لئے کوشش کرو اور نجات اسی میں آجاتی ہے ۔ کیونکہ جب انسان دشمن کو مار کر اس پر کامیابی حاصل کرلے گا تو اس کے حملے سے بھی بچ جائے گا۔ ایک ایسا شخص جس کو بھوک نہیں وہ اس کی تکلیف سے بچا ہوا ہے۔ مگر ایک ایسا شخص جس نے ایسا کھانا کھایا جس سے جسم نے طاقت حاصل کی تو وہ بھوک سے بھی بچا ہوا ہو گا۔ تو کامیابی میں نجات آپ ہی آجاتی ہے اسی لئے اسلام نے انسان کا اصل مقصد فلاح کو قرار دیا ہے۔ ہاں کبھی کبھی نجات کا لفظ فلاح کے لئے بولتے ہیں عام محاورہ کی وجہ سے کیونکہ عام لوگ نجات ہی کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ پس نجات فلاح کے نیچے کا درجہ ہے اور جس کو فلاح حاصل ہو گئی اسے نجات بھی حاصل ہو گئی کیونکہ جو شخص تین سیڑھیاں چڑھ گیا وہ رو آپ ہی چڑھ گیا۔ اب میں بتاتا ہوں کہ فلاح کیا ہے ؟ میں نے اسلام کی نجات کی تعریف نہیں کی فلاح کیا ہے ؟ کیونکہ اسلام فلاح کو پیش کرتا ہے نجات کو پیش نہیں کرتا اس لئے میں اب فلاح کی تعریف کرتا ہوں۔ اسلام کے نزدیک فلاح یا دوسرے لفظوں میں نجات کیا ہے؟ اسلام کہتا ہے ۔ یہ نجات نہیں کہ تم دوزخ کی سزا سے بچ جاؤ گے بلکہ انسان جس غرض کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس کو حاصل کر لینا فلاح ہے اور چونکہ انسان اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ خدا سے ملے اس لئے نجات یہ ہے کہ خدا تعالٰی کے ملنے کی جو تڑپ اور آگ انسان کے دل میں لگی ہوئی ہے اس سے بچ جائے اور خدا تعالی سے مل جائے ۔ انسان کے اندر ایک تڑپ رکھی گئی ہے اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلی میں جس کی طرف اشارہ ہے۔ اس تڑپ کا پورا ہو جانا اور اس سے بچ جانا نجات ہے۔ اس تڑپ سے انسان بچ کس طرح سکتا ہے؟ جس طرح عاشق معشوق سے مل کر ہی تڑپ سے بچ سکتا ہے نہ کہ