انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 54

انوار العلوم - جلدے لئے اس نے کیا کیا کوششیں کیں۔ ولد رسول کریم کے نبوت سے پہلے حالات رسول کریم ا کی زندگی کے حالات نبوت کے بعد کے تو مصنفوں نے لکھے ہیں نجات لیکن افسوس کہ نبوت سے پہلے کے حالات نہیں لکھے ۔ اگر وہ حالات لکھتے تو معلوم ہوتا کہ کس طرح آپ کے دل میں تڑپ تھی اور آپ کس طرح عبادتیں کرتے تھے اور نہ معلوم ان حالات کا کتنا بڑا اثر ہوتا۔ یہ شکوہ ہے مجھے پرانے مصنفوں پر کہ انہوں نے رسول کریم ال کے پہلے حالات نہ لکھے ۔ غرض نجات کا مسئلہ فطری مسئلہ ہے اور ہر شخص چاہتا ہے کہ نجات حاصل نجات کیا ہے ؟ کرے مگر سوال یہ ہے کہ نجات کیا چیز ہے؟ عجیب بات ہے کہ جس طرح ساری دنیا کے فرقوں کا اس امر پر اتحاد ہے کہ کسی چیز سے بچنا چاہئے یعنی نجات حاصل کرنی چاہئے اسی طرح اس امر میں سب کو اختلاف ہے کہ نجات ہے کیا؟ اس سے ایک عظیم الشان بات معلوم ہوتی ہے اور وہ یہ کہ نجات فطری امر ہے مگر اس کا بتانا الہام کے ذریعہ ہی ممکن ہے اور جو سچا العام پائے گا وہی نجات کی صحیح تعریف بتائے گا باقی لوگ غلط خیالات دوڑائیں گے۔ اب میں یہ بتاتا ہوں کہ لوگ نجات کے متعلق کیا کیا غلط خیالات دوڑاتے ہیں۔ برہمنوں کے نزدیک نجات کی تعریف برہمنوں نے کہا ہے کہ نجات یہ ہے کہ سکھ دیکھ سے انسان بیچ کر خدا میں جذب ہو جائے یعنی اس میں شامل ہو جائے۔ ان کے نزدیک آرام بھی ایک کمزوری ہے اور کمزوری کی وجہ سے آرام کا احساس ہوتا ہے۔ بدھوں کے نزدیک نجات بالکل اور ہے۔ بدھ اس بدھوں کے نزدیک نجات کی تعریف بات کے قائل ہیں کہ دنیا میں جو دکھ ہیں ان سے انسان کو بچنا چاہئے۔ وہ کہتے ہیں جو نوں میں پڑنے سے چھٹ جاتا اور خواہشات کا مٹ جانا نجات ہے۔ پھر وہ کہتے ہیں ہر ایک خواہش دوزخ ہے اور یہی جونوں کو پیدا کرتی ہے جب یہ نہیں رہتی تو انسان جو نوں میں نہیں آتا اور یہی نجات ہے۔ جینیوں کے نزدیک نجات یہ ہے کہ انسان جو نوں جینیوں کے نزدیک نجات کی تعریف سے چھٹ کر اعلی طاقتیں حاصل کرلے۔ وہ خدا سے کر اعلیٰ وہ