انوارالعلوم (جلد 7) — Page 53
انوار العلوم - جلدے ۵۳ نجات گھر چلا گیا ( معلوم ہوتا ہے یہ خدا تعالیٰ کا ہی انتظام تھا ورنہ اگر اسے عام طور پر مصیبت زدہ لوگوں سے ملنے دیا جاتا تو اس پر اس قدر اثر نہ ہوتا) پھر دوسری دفعہ اس نے باہر جانے کی اجازت حاصل کی اور باہر گیا اس دفعہ اس نے ایک اندھا دیکھا اس سے بھی وہ بہت متاثر ہوا اور دیر تک سوچتا رہا۔ اسی طرح وہ پھر باہر گیا اور پھر کوئی اور مصیبت زدہ دیکھا۔ آخر ایک دن اس نے دیکھا کہ ایک سنیاسی جا رہا ہے اس سے پوچھا تو کون ہے اور کہاں جاتا ہے ؟ اس نے کہا میں سنیاسی ہوں اور نجات حاصل کرنے کے لئے جا رہا ہوں۔ دنیا میں جو دکھ ہوتے ہیں ان سے بچنے کے لئے دنیا کو چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ اس نے کہا کیوں نہ میں بھی ان دکھوں سے بچنے کے لئے کوشش کروں۔ اس کے متعلق کچھ عرصہ تک وہ سوچتا رہا۔ آخر اس کے گھر بچہ پیدا ہوا۔ اس کا اس پر یہ اثر ہوا کہ اس نے کہا پہلے تو مجھ پر ہی دکھ تھے اب اس بچہ پر بھی ہوں گے۔ اسی دن اس نے نوکر کو ایک گھوڑا تیار کرنے نے کے لئے کہا اور سوتی ہوئی بیوی اور بچے کو پیار کر کے گھر سے باہر نکل گیا۔ باہر آکر گھوڑا نو کر کو دے دیا اور کہا جا میرے باپ کو کہہ دے کہ میں نجات کی تلاش کو جاتا ہوں۔ وہاں سے چل کر وہ ایک جگہ جس کا نام راجہ گر ہی تھا آیا ۔ یہ ایک مشہور جگہ تھی وہاں بڑے بڑے عالم اکٹھے ہوئے ہوئے تھے وہاں اس نے دیکھا کہ ایک پہاڑی پر کچھ برہمن اپنے اپنے علم پڑھاتے ہیں۔ ایک برہمن سے وہ فلسفہ پڑھنے لگا۔ پڑھتے پڑھتے آخر اس نے کہا کہ یہ برہمن باتیں تو بہت کرتا ہے مگر مجھے نجات تو نہ ملی ان باتوں کا مجھے کیا فائدہ ہے۔ اس پر اس نے استاد کو کہہ دیا کہ میں اب تجھ سے نہیں پڑھتا اور ایک اور کے پاس چلا گیا وہ صوفی منش آدمی تھا خود عبادت کرتا اور دوسروں کو کراتا تھا۔ اس کے پاس رہنے لگا اور عبادت کے طریق سیکھے اور پھر اور ساتھیوں کو لے کر جنگل میں جاکر عبادتیں کرنے لگ گیا۔ اس قدر عبادتیں اور فاقے کئے یعنی روزے رکھے کہ آخر ایک دن بیہوش ہو کر گر گیا۔ ایک زمیندار عورت ادھر سے جارہی تھی وہ اسے اٹھوا کر لے گئی اور جا کر خدمت کی۔ آخر اسے ہوش آئی اور اس نے سوچنا شروع کیا کہ میں نے فلسفہ پڑھا مگر نجات نہ ہوئی۔ میں نے عبادت کی مگر نجات نہ ہوئی ۔ کہتے ہیں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اس کے دل کی کھڑکی کھلی۔ یہ الہام تھا جوا راسے ہوا اس میں اسے بتایا گیا۔ کہ ایک درمیانہ راستہ ہے اور اس میں نجات ہے۔ آخر اس کو تسلی ہو گئی اور اس طرح اس نے نجات کے لئے کوشش کی۔ دراصل وہ نبی تھا اور خدا تعالٰی کا قائل تھا حضرت مسیح موعود کی تحریروں سے یہی معلوم ہوتا ہے) اس کا یہ واقعہ بہت ہی اثر انگیز ہے کہ کس طرح اس کے دل میں نجات کے لئے تڑپ پیدا ہوئی اور اس کے