انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 53

۵۳ نجات گھر چلا گیا (معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالی ٰکا ہی انتظام تھا ورنہ اگر اسے عام طور پر مصیبت زدہ لوگوں سے ملنے دیا جاتا تو اس پر اس قدر اثر نہ ہوتا) پھر دوسری دفعہ اس نے باہر جانے کی اجازت حاصل کی اور باہر گیا اس دفعہ اس نے ایک اند ھادیکھا اس سے بھی وہ بہت متاثر ہوا اور دیر تک سوچتا رہا۔اسی طرح وہ پھر باہر گیا اور پھر کوئی اور مصیبت زدہ دیکھا۔آخر ایک دن اس نے دیکھا کہ ایک سنیا سی جا رہا ہے اس سے پوچھا تو کون ہے اور کہاں جاتا ہے؟ اس نے کہا میں سنیاسی ہوں اور نجات حاصل کرنے کے لئے جارہاہوں۔دنیا میں جو دکھ ہوتے ہیں ان سے بچنے کے لئے دنیا کو چھوڑ کر جا رہا ہوں۔اس نے کہا کیوں نہ میں بھی ان دکھوں سے بچنے کے لئے کوشش کروں۔اس کے متعلق کچھ عرصہ تک وہ سوچتا رہا۔آخر اس کے گھربچہ پیدا ہوا۔اس کا اس پر یہ اثر ہوا کہ اس نے کا پہلے تو مجھ پر ہی دکھ تھے اب اس بچہ پر بھی ہوں گے۔اسی دن اس نے نوکر کو ایک گھوڑا تیار کرنے کے لئے کیا اور سوتی ہوئی بیوی اور بچے کو پیار کر کے گھر سے باہر نکل گیا۔باہر آکر گھوڑا نوکر کو دے دیا اور کہاجا میرے باپ کو کہہ دے کہ میں نجات کی تلاش کو جاتا ہوں۔وہاں سے چل کر وہ ایک جگہ جس کا نام راجہ گرہی تھا آیا۔یہ ایک مشہور جگہ تھی وہاں بڑے بڑے عالم اکٹھے ہوئے ہوئے تھے وہاں اس نے دیکھا کہ ایک پہاڑی پر کچھ بر ہمن اپنے اپنے علم پڑھاتے ہیں۔ایک برہمن سے وہ فلسفہ پڑھنے لگا۔پڑھتے پڑھتے آخر اس نے کہا کہ یہ برہمن باتیں تو بہت کرتا ہے مگر مجھے نجات تونہ ملی ان باتوں کا مجھے کیا فائدہ ہے۔اس پر اس نے استاد کو کہہ دیا کہ میں اب تجھ سے نہیں پڑھتا اور ایک اور کے پاس چلا گیا وہ صوفی منش آدمی تھاخود عبادت کرتا اور دوسروں کو کراتا تھا۔اس کے پاس رہنے لگا اور عبادت کے طریق سیکھے اور پھراورساتھیوں کو لے کر جنگل میں جاکر عبادتیں کرنے لگ گیا۔اس قدر عبادتیں اور فاقے کئے یعنی روزے رکھے کہ آخر ایک دن بیہوش ہو کر گر گیا۔ایک زمیندار عورت ادھر سے جاری تھی وہ اسے اٹھوا کرلے گئی اور جاکر خدمت کی۔آخر اسے ہوش آئی اور اس نے سوچنا شروع کیا کہ میں نے فلسفہ پڑھامگر نجات نہ ہوئی۔میں نے عبادت کی مگر نجات نہ ہوئی۔کہتے ہیں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اس کے دل کی کھڑکی کھلی۔یہ الہام تھا جو اسے ہوا اس میں اسے بتایا گیا کہ ایک درمیانہ راستہ ہے اور اس میں نجات ہے۔آخر اس کو تسلی ہو گئی اور اس طرح اس نے نجات کے لئے کوشش کی۔(دراصل وہ نبی تھا اور خدا تعالی ٰکا قائل تھا حضرت مسیح موعودؑ کی تحریروں سے بھی معلوم ہوتا ہے) اس کا یہ واقعہ بہت ہی اثر انگیز ہے کہ کس طرح اس کے دل میں نجات کے لئے تڑپ پیدا ہوئی اور اس کے