انوارالعلوم (جلد 7) — Page 51
۵۱ تمام دنیا کے گوشوں کی کتابیں اس بات کومد نظر رکھ کر پڑھی ہیں کہ آیا کوئی علاقہ ایسا ہے جہاں خدا تعالی ٰکے ماننے کا خیال نہیں تو مجھے یہی معلوم ہواہے کہ سب جگہ ہے۔نجات کا خیال تمام انسانوں میں پایا جاتاہے اسی طرح تمام علاقوں میں نجات کا خیال پایا جاتا ہے۔عیسائیوں کا تو مدار ہی اسی مسئلہ پر ہے۔ہندوؤں میں جا کر دیکھو تو وہ اسے مکتی اور مو کھش کہتے ہیں اور اسے ضروری مانتے ہیں۔یہودی مذہب کی کتایں جب پڑھتے ہیں تو بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ نجات ضروری ہے انسان کو چاہئے کہ اسے حاصل کرے۔گو نجات کالفظ جو عربی ہے وہ نہ ہو مگر اس قسم کے الفاظ کہ خدا کے غضب سے بچنا چاہئے اور اس کا قرب حاصل کرنا چاہتے ضرور پائے جاتے ہیں۔پھر ایرانیوں اور زرتشتیوں کی کتابوں میں بھی یہی پایا جاتا ہے۔پھر نہایت پر انے مذاہب یعنی مصری اور جاپانی وغیرہ لوگوں میں بھی نجات کا مسئلہ پایا جاتا ہے۔سات سات ہزار سال کے پرانے آثار ملے ہیں ان سے پتہ لگا ہے کہ وہ لوگ مردوں کے ساتھ کھانے پینے کی چیزیں اور قیمتی اشیاء اس لئے رکھ دیا کرتے تھے کہ وہ عذاب سے بچ جائیں۔گویا نجات کا خیال ادنیٰ سے ادنی ٰمذاہب میں بھی پایا جاتاہے۔نجات کا خیال خداکے خیال سے زیادہ پھیلا ہواہے ٍمگر عجیب بات یہ ہے کہ جب اور تحقیقات کرتے ہیں تو خدا تعالی ٰکے وجود کے خیال سے بھی اس کو آگے نکلا ہواپاتے ہیں کیونکہ بعض ایسی قومیں ہیں جنہوں نے خدا کو چھوڑ دیا ہے مگر نجات کو مانتی ہیں کہ یہ ضروری ہے۔چنانچہ ہندوؤں میں بدھ اور جینی ایسی ہی قومیں ہیں۔بدھ پہلے خدا کے قائل تھے مگر موجودہ بدھ نہیں وہ کہتے ہیں ہمیں نہ یہ پتہ ہے کہ خدا ہے اور نہ یہ کہ خدا نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس سے بھی واسطہ نہیں کہ خداہے یا نہیں اصل بات یہ ہے کہ نجات حاصل کرنی چاہئے۔گویا انہوں نے خدا کو چھوڑ دیا مگر نجات کو نہیں چھوڑا کیونکہ یہ بات ان کے اپنے دکھوں سے تعلق رکھتی ہے۔ان سے بڑھ کر جینی ہیں۔وہ صاف طور پر کہتے ہیں کہ خدا کو کی نہیں ہے مگر وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ انسانی روحوں کاسب سے بڑا مقصد نجات حاصل کرنا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ نجات فطرت کا مسئلہ ہے اور ایسے متفقہ طور پر لوگ اسے مانتے ہیں کہ کسی حالت میں ان سے یہ الگ نہیں ہو سکتا۔پس جب کہ اس کے متعلق اسی تڑپ لگی ہوئی