انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page vii of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page vii

انوار العلوم جلد کے تعارف کتب بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ تعارف کتب یہ انوار العلوم کی ساتویں جلد ہے جو سید نا حضرت فضل عمر خلیفہ المسیح الثانی کی اپریل ۱۹۲۲ء سے دسمبر ۱۹۲۳ء تک سات مختلف تقاریر و تحریرات پر مشتمل ہے۔ (1) خطاب جلسہ سالانه ۲۷ دسمبر ۱۹۲۲ء سید نا حضرت خلیفة المسیح الثانی نے ۲۷ دسمبر ۱۹۲۲ء کو قادیان میں یہ تقریر جماعت احمد یہ کے جلسہ سالانہ پر ارشاد فرمائی۔ جس میں سب سے پہلے آپ نے مجلس مشاورت میں شمولیت اور مشورہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے متوجہ فرمایا کہ بعض لوگ کسی سستی کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک غلط خیال کی وجہ سے مشاورت میں شامل نہیں ہوتے کہ جب ہم ایک ہاتھ پر بیک چکے ہیں تو پھر ہمیں کچھ کہنے کی کیا ضرورت ہے ؟ جس طرح ہمیں کہا جائے گا ہم کریں گے۔ فرمایا یہ ٹھیک ہے مگر مشورہ دینے کا حکم بھی اسی کی طرف سے ہے جس کے ہاتھ پر تم پک چکے ہو۔ اس لئے جب مشورہ کیلئے بلایا جائے تو مشورہ دو اور مشاورت میں ہر قسم کی قربانی کر کے شامل ہو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ کوئی خلافت نہیں کہ جس میں مشورہ نہ ہو۔ فرمایا میں مشورہ لیتا ہوں اور اس کی قدر بھی کرتا ہوں اس کے بہت سے فوائد ہیں۔ اس کے بعد حضور نے نفس انسانی کو پاک کرنے اور روحانی بیماریوں سے تحفظ کیلئے دو