انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 47

۴۷ بسم الله الرحمن الرحيم محمد صلی علی رسوله الكريم نجات (تقریر حضرت فضل عرخلیفہ المسیح الثانی فرموده ۲۸ دسمبر۱۹۲۲ءبر موقع جلسہ سالانہ) أشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله اما بعد فاعوذ بالله من الشیطن الرجيم - بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله رب العلمين الرحمن الرحيم مالك يوم الدين اياك نعبد و اياك نستعين إهدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالین – امين قد افلح المؤمنون الذين هم في صلاتهم خاشعون و الذين هم عن اللغو معرضون والذين هم للزكوة فاعلون والذين هم لفروجهم حفظون الا على ازواجهم أو ما ملكت أيمانهم فانهم غير ملومين فمن ابتغى وراء ذلك ، فاولئک هم العدون والذين هم لا منتهم وعهدهم راعون والذين هم علی صلوتهم يحافظون اولئک هم الوارثون الذين يرثون الفردوس هم فيهاخلدون مضمون کی اہمیت میرا ارادہ اللہ تعالیٰ ٰکی تو فیق اور فضل کے ماتبت آن ایک ایسے مضمون پر بولنے کا ہے جو گو اس مضمون کی اہمیت کو ذاتی طور پر نہیں پہنچ سکا جس کے متعلق پچھلے سال میں نے تقریر کی تھی یعنی ہستی باری تعالیٰ کے مضمون کو اور اس سے کوئی مضمون بالا ہو ہی نہیں سکتا مگر اس میں بھی شک نہیں کہ وہ مضمون جس کے متعلق میں آج بیان کروں گا وہ ذات باری تعالیٰ کے مضمون کو سمجھنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے متعلق اہم مضامین میں سے ایک ہے اور اگر خدا تعالیٰ کو الگ کر کے انسانی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو سب سے بڑا مضمون ہے۔