انوارالعلوم (جلد 7) — Page 595
۵۹۵ داریوں سے نہ گھبرائیں جو حق کو قبول کرنے سے انسان پر عائد ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد کرتے ہوئے اور محمد رسول اللہ ﷺکی عنایتوں کو سوچتے ہوئے اس بوجھ کے نیچے اپنا کندھا دے دیجئے` جس کا اٹھانا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے- آپ بادشاہ ہیں` لیکن اللہ تعالیٰ کے حضور آپ اور دوسرے انسان برابر ہیں` جس طرح ان پر خدمت اسلام کا فرض ہے آپ پر بھی فرض ہے اور جس طرح ان کے لیے اللہ تعالیٰٰ کے ماموروں کا ماننا ضروری ہے آپ کے لیے بھی ضروری ہے پس اللہ تعالیٰ کے حکموں اور اس کی تقسیموں کو قبول کیجئے- اور اس کے قائم کردہ سلسلے میں داخل ہو کر اللہ تعالیٰ کے انعامات سے حصہ لیجئے کہ ان میں سب سے چھوٹا آپ کی ساری مملکت سے بڑا اور زیادہ قیمتی ہے- رسول کریم ﷺفرماتے ہیں من فارق الجماہ شیرا فلیس منا- پس اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت سے جدا رہنا نہایت خوف کا مقام ہے اور خصوصاً بادشاہوں کے لیے کہ ان پر دوہری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ایک ان کی اپنی اور ایک ان کی رعایا کی` بہت سے نادان دین کے معاملے میں بھی اپنے بادشاہ کی طرف دیکھتے ہیں- پس اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کی غلطیوں کے ذمہ دار ان کے بادشاہ سمجھے جاتے ہیں- جب رسول کریم ﷺنے قیصر کو خط لکھا تھا تو آپ نے اس کو اسی امر کی طرف توجہ دلا کر حق کو جلد قبول کرنے کی ترغیب دی تھی اور تحریر فرمایا تھا کہ فان تولیت فعلیک اثم الارلیسیین کہ اگر تو نے انکار کر دیا تو تجھ پر زمینداروں کا گناہ بھی ہوگا- پس آپ حق کو قبول کر کے اپنی رعایا کے راستے سے وہ روک ہٹا دیں جو اب آپ کے راستے میں حائل ہے تاکہ اس کے گناہ آپ کو نہ دئیے جائیں بلکہ ان کی نیکیاں آپ کو ملیں کیونکہ جس طرح وہ بادشاہ جو حق کا انکار کر کے دوسروں کے لیے روک بنتا ہے ان کے گناہوں میں شریک قرار دیا جاتا ہے- اسی طرح وہ بادشاہ جو حق کو قبول کر کے دوسروں کے لیے حق کے قبول کرنے کا راستہ کھولتا ہے ان کے ثواب میں شریک کیا جاتا ہے- یہ دنیا چند روزہ ہے اور نہ معلوم کہ کون کب تک زندہ رہے گا آخر ہر ایک کو مرنا اور اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے- اس وقت سوائے صحیح عقائد اور صالح اعمال کے اور کچھ کام نہیں آئے گا- غریب بھی اس دنیا سے خالی ہاتھ جاتا ہے اور امیر بھی` نہ بادشاہ اب تک اس دنیا سے کجھ لے گئے نہ غریب- ساتھ جانے والا صرف ایمان ہے یا اعمال صالحہ- پس اللہ تعالیٰ کے مامور پر