انوارالعلوم (جلد 7) — Page 583
انوار العلوم جلدے ۵۸۳ وحدة الأمير ڈراتے آئے ہیں چنانچہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں۔ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيَّ بَعْدَ نُوحٍ إِلَّا قَدْ أَنذَرَ قَوْمَهُ الدَّجَالَ وَإِنِّي انْذِرُ كُمُوهُ ۳۲۳۔ یعنی حضرت نوح کے بعد کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس نے دجال کے فتنہ سے اپنی قوم کو نہ ڈرایا ہو اور میں بھی تم کو اس سے ڈراتا ہوں۔ پس و جالی نتنے سے مارے ہوئے لوگوں سے زیادہ زندگی سے دور دوسرے مردے نہیں ہو سکتے اور ایسے امیدوں کی حد سے گزرے ہوئے مردوں کا زندہ کرنا در حقیقت ایک بہت بڑا مشکل کام تھا مگر آپ نے یہ کام کیا اور ہزاروں لاکھوں مردے زندہ کر کے دکھا دیئے اور ایک ایسی جماعت پیدا کر دی جس کی نظیر رسول کریم اے کی جماعت کو مستثنیٰ کر کے دوسری جماعتوں میں نہیں ملتی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تعلقات اپنی قوم کے ساتھ سیاسی بھی تھے اس لئے ان کی ساری قوم ان پر ایمان لا کر ہی ان کے ساتھ نہ تھی بلکہ بہت سے لوگ سیاسی حالات کو مد نظر رکھ کر ان کے ساتھ چلنے پر مجبور تھے جو لوگ ان پر ایمان لاکر ان کے ساتھ ہوئے ان کے متعلق اللہ تعالٰی فرماتا ہے۔ فَمَا آمَنَ لِمُوسَى الأَذُرِّيَّةٌ مِّنْ قَوْمِهِ ۳۲۴۔ یعنی موسیٰ کی اطاعت نہیں کی مگر ان کی قوم کے کچھ نوجوانوں نے ۔ یہ تو قیام مصر کا حال تھا مصر سے نکل کر بھی اکثر حصہ آپ کی قوم کا آپ کی صداقت کا دل سے قائل نہ تھا ہاں سیاستا آپ کے ساتھ تھا چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ موسیٰ کی قوم کے ایک حصہ نے خروج مصر کے بعد ان سے کہا بُمُوسَى لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى الله اللهَ جا جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمُ الصَّيفَةُ وَأَنتُمْ تَنْظُرُونَ ۳۲٥۔ اے موسیٰ ! ہم تیری بات ہرگم نہ مانیں گے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔ پس تم کو عذاب الہی نے پکڑ ى هرگز لیا در آنحالیکہ تم دیکھ رہے تھے۔ اسی طرح قرآن کریم سے بھی معلوم ہوتا ہے اور انجیلوں اور تاریخوں سے بھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بھی بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے اور ان میں مخلص تھے نے اور جنہوں نے حقیقی زندگی پائی تھی وہ تو بہت ہی کم تھے ۔ لیکن حضرت اقدس ہے جو علیہ السلام چونکہ رسول کریم ﷺ کے فیوض روحانیہ کے جاری کرنے اور آپ کی برکات کو دنیا میں پھیلانے کیلئے آئے تھے اور مسیح محمدی کا مقام بلند رکھتے تھے آپ کے ذریعہ سے اللہ تعالی نے بہت سے مردے مردے زندہ کئے اور ایسے مردے زندہ کئے کہ اگر ان پر چشمہ محمدیہ کا پانی نہ چھڑ کا جاتا تو ان کے جینے کی کوئی امید ہی نہیں ہو سکتی تھی۔ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ اس زمانے میں جبکہ چاروں طرف بدعات اور رسوم اور دنیا طلبی اور فسق اور دین سے نفرت اور کلام الہی سے بے پروائی اور شرائع کی ہتک اور اعمال