انوارالعلوم (جلد 7) — Page 40
انوار العلوم - جلدے ۴۰ تقریر جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۱۹۲۲ء ۔ نقصان پہنچتا ہے یا ان نیکیوں سے اس کا کوئی فائدہ ہے یہ سب کچھ بندوں کے لئے ہی ہے۔ تیسری چیز جو انسان کے لئے ضروری ہے وہ محبت الہی ہے۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔ محبت الہی پہلے یہ ضروری ہے کہ ہم خود مرض سے محفوظ رہیں اور دوسرے یہ کہ دو دوسروں کو محفوظ رکھیں اور آئندہ کے لئے مرض کا سد باب کر دیا جائے تاکہ اس کے پیدا ہونے کا خطرہ نہ رہے اس کے بعد جو ضروری امر ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہو۔ یہ آئندہ کے لئے برائیوں کا سد باب کر دیتی ہے اور روحانی ترقیات کے لئے محبت الہی کا ہونا ضروری ہے۔ صرف نماز روزہ ہی کافی نہیں بلکہ محبت الہی ہونی چاہئے ۔ اور جتنی یہ محبت تیز ہو گی اتنی ہی برائیوں کی آگ سرد ہو جائے گی اور یہ محبت اتنی تیز ہونی چاہئے کہ خدا تعالی کے سوا اور کوئی چیز سامنے ہی نہ آئے اور اس وقت تک صبر نہ آئے جب تک خدا تعالیٰ کو نہ پالیا جائے۔ مگر یاد رکھو یہ تینوں باتیں اس وقت تک نہیں ہو سکتیں جب تک ایک دوسرے کا تعاون ایک دوسرے کی مدد نہ کی جائے اور جب تک آپس میں تعاون نہ ہو۔ اس کی موٹی مثال یہ دیکھ لو کہ جو جذبات انسانوں میں پیدا کئے گئے ہیں وہ جانوروں میں نہیں ہیں۔ مثلاً ایک گھوڑی کا بچہ جب بڑا ہو جائے تو وہ اپنی ماں سے بلا حجاب کے مل لے گایا اسے گھوڑی سے علیحدہ کردو اور کہیں لے جاؤ تو چند دن تو گھوڑی اس کو یاد کرے گی مگر پھر بھول جائے گی۔ لیکن اگر انسان کا بچہ کوئی لے جائے تو ماں باپ ساری عمر روتے رہیں گے۔ جیسے حضرت یعقوب حضرت یوسف کو یاد کرتے رہے۔ مرنے والے بچے کے متعلق ماں باپ ساری عمر نہیں روتے رہیں گے اور اس کے متعلق انہیں صبر آجائے گا کیونکہ سمجھیں گے کہ وہ خدا کے پاس چلا گیا مگر جو گم ہو گیا ہو اس کے متعلق روتے رہیں گے کیونکہ خیال کریں گے نہ معلوم وہ کیسی دکھ کی حالت میں ہو ۔ اس قسم کے جذبات سے ظاہر ہے کہ خدا تعالٰی نے ایک دوسرے سے تعاون کے لئے انسان کو پیدا کیا ہے۔ دینی طور پر اس کی مثال یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ایک نبی بھیجتا ہے تاکہ لوگوں میں ان کی وجہ سے تعاون کا احساس رکھے۔ پس یہ باتیں جو میں نے بیان کی ہیں۔ ان کو تم کبھی حاصل نہیں کر سکتے جب تک ایک دوسرے سے تعاون نہ کرو۔ یہ صحیح ہے کہ انتظامی پابندی پہلے پہل بری لگا کرتی ہے اور تکلیف وہ معلوم ہوتی ہے لیکن