انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 574 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 574

انوار العلوم جلد ہے ۵۷۴ دعوة الامير لیکن آپ نے اس سے پہلو ہی بچایا۔ یہ نہیں تھا کہ آپ ست تھے اور سستی کی وجہ سے آپ نے ایسا کیا کیونکہ آپ کی بعد کی زندگی نے ثابت کر دیا کہ آپ جیسا محنتی شخص دنیا کے پر دے پر ملنا مشکل ہے۔ ایک قادیان کے پاس رہنے والا سکھ جس کے باپ دادوں کے تعلقات آپ کے والد صاحب کے ساتھ تھے سنایا کرتا ہے اور باوجود مذہبی اختلاف ہونے کے اب تک اس واقعہ کو سناتے وقت اس کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں کہ ایک دفعہ ہمیں آپ کے والد صاحب نے آپ کے پاس بھیجا اور کہا کہ جاؤ ان سے کہو کہ وہ کہ وہ میرے ساتھ حکام کے پاس چلیں میں ان کو تحصیلداری کا عہدہ دلانے کی کوشش کروں گا وہ کہتا ہے کہ جب ہم آپ کے پاس گئے تو آپ ایک کوٹھڑی میں علیحدہ بیٹھے ہوئے کوئی کتاب پڑھ رہے تھے جب ہم نے آپ سے کہا کہ آپ کے والد صاحب آپ کو معزز عہدہ دلانے کیلئے کہتے ہیں آپ کیوں ان کے ساتھ نہیں جاتے تو آپ نے کہا کہ میری طرف سے ان کی خدمت میں با ادب عرض کر دو کہ میں نے جس کی نوکری کرنی تھی کرلی اب وہ مجھے معاف ہی کر دیں تو اچھا ہے ۔ ان دنوں آپ کا شغل یہ ہوتا تھا کہ قرآن کریم کا مطالعہ کرتے رہتے یا احادیث کی کتب دیکھتے یا مثنوی رومی کا مطالعہ کرتے اور یتیموں اور مسکینوں کا ایک گروہ کسی کسی وقت آپ کے پاس آجاتا تھا جن میں آپ اپنی روٹی تقسیم کر دیتے اور بسا اوقات بالکل ہی فاقہ کے بالکل ہی فاقہ کرتے اور بعض اوقات صرف چنے بھنوا کر چبا لیتے اور آپ کی خلوت نشینی اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ کئی دفعہ ایسا ہو تا کہ گھر کے لوگ آپ کو کھانا بھیجنا تک بھول جاتے۔ ایک دفعہ آپ اس خیال سے کہ والد صاحب کی نظروں سے علیحدہ ہو جاؤں تو شاید وہ مجھے دنیا کے کاموں میں پھنسانے کا خیال جانے دیں۔ قادیان سے سیالکوٹ چلے گئے اور وہاں عارضی طور پر گزارے کیلئے آپ کو ملازمت بھی کرنی پڑی مگر یہ ملازمت آپ کی عبادت گذاری میں روک نہ تھی کیونکہ صرف سوال سے بچنے کیلئے آپ نے یہ ملازمت کی تھی کوئی دنیاوی ترقی اس سے مقصود نہ تھی۔ اس جگہ آپ کو پہلی دفعہ اس بات کا علم ہوا کہ اسلام نہایت نازک حالت میں ہے اور دوسرے مذاہب کے لوگ اسے کھانے کے درپے ہیں اور اس کا ذریعہ یہ ہوا کہ سیالکوٹ میں پادریوں کا بڑا مرکز تھا وہ بازاروں اور کوچوں میں روزانہ اپنے مذہب کی اشاعت کرتے اور اسلام کے خلاف لوگوں کے دلوں میں شکوک ڈالتے تھے اور آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے تھے کہ کوئی شخص ان کا مقابلہ نہیں کرتا اور یہ وہ زمانہ تھا کہ لوگ سمجھتے تھے کہ