انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 573 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 573

۵۷۳ فرمانبرداری کی طرف ان کو کچھ بھی توجہ ہوتی۔وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن اس سے ملنے کے لئے کچھ بھی کوشش نہیں کرتے- ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کسی کا عزیز آجائے تو وہ سو کام چھوڑ کر اس سے ملتا ہے- اپنے دوستوں اور پیاروں کی ملاقات کا موقع ملے تو شاداں وفرحاں ہو جاتا ہے` حکام کے حضور شرف بار یابی حاصل ہو تو خوشی سے جامے میں پھولا نہیں سماتا` لیکن لوگ اللہ تعالیٰٰ سے محبت کا دعوے کرتے ہیں مگر نماز کے نزدیک نہیں جاتے یا نماز پڑھتے ہیں تو اس طرح کہ کبھی پڑھی کبھی نہ پڑھی یا اگر باقاعدہ بھی پڑھی تو ایسی جلدی جلدی پڑھتے ہیں کہ معلوم نہیں ہوتا کہ سجدہ سے انہوں نے سرکب اٹھایا اور پھر کب واپس رکھدیا- جس طرح مرغ چونچیں مار کر دانہ اٹھاتا ہے یہ سجدہ کر لیتے ہیں` نہ خشوع ہوتا ہے نہ خضوع` اسی طرح اللہ تعالیٰ روزے کا بدلہ اپنے آپؑ کو قرار دیتا ہے` مگر لوگ اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ کرتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑنے کے لئے نہیں جاتے اور اس کا قرب حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے- اللہ تعالیٰ کی محبت ظاہر کرتے ہیں لیکن لوگوں کے حقوق دباتے ہیں` جھوٹ بولتے ہیں` بہتان باندھتے ہیں- غیبتیں کرتے ہیں` اللہ تعالیٰ سے عشق بیان کرتے ہیں` لیکن قرآن کریم کا مطالعہ اور اس پر غور کرنے کی توفیق ان کو نہیں ملتی` کیا جس طرح آجکل لوگ قرآن کریم سے سلوک کرتے ہیں اسی طرح اپنے پیاروں کے خطوط سے بھی کیا کرتے ہیں؟ کیا ان خطوں کو لپیٹ کر رکھ چھوڑتے ہیں اور ان کو پڑھ کر ان کا مطلب سمجھنے کی کوششیں نہیں کرتے` غرض محبت کا دعویٰ اور شے ہے اور حقیقی محبت اور شے محبت کبھی عمل اور قربانی سے جدا نہیں ہوتی اور اس قسم کی محبت اور اس قسم کا پیار ہمیں اس زمانے میں سوائے حضرت اقدسؑ علیہ السلام اور آپ کے متبعین کے اور کسی شخص میں نظر نہیں آتا- آپؑ کی زندگی کے حالات بتاتے ہیں کہ جب سے آپ نے ہوش سنبھالا` اسی وقت سے اللہ تعالیٰٰ اور اس کے رسول کی محبت میں سرشار تھے اور ان کی محبت آپ ؑکے رگ وریشہ میں سمائی ہوئی تھی- بچپن ہی سے آپ احکام شرعیہ کے پابند تھے اور گوشہ نشینی کو پسند کرتے تھے- جب آپ تعلیم سے فارغ ہوئے تو آپ کے والد صاحب نے بہت چاہا کہ آپ کو کسی جگہ ملازم کرا دیں` لیکن آپ نے اس امر کو پسند نہ کیا اور بار بار کے اصرار پر بھی انکار کرتے رہے اور خدا کی یاد کو دنیا کے کاموں پر مقدم کر لیا- آپؑ ایک نہایت معزز خاندان کے فرد تھے- اگر آپؑ چاہتے تو آپ کو معزز عہدہ مل سکتا تھا- جیسا کہ آپ کؑے بڑے بھائی کو ایک معزز عہدہ حاصل تھا