انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 570 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 570

انوار العلوم جلدے ۵۷۰ دعوة الامير رہے۔ یہودی یہودی نہیں رہے اور پارسی پارسی نہیں رہے بلکہ ایک عقلی مذہب ان مذاہب کی رسوم کی چادر میں لپٹا ہوا سب جگہ پھیل رہا ہے نام مختلف ہیں مگر خیالات سب دنیا کے ایک ہو رہے ہیں۔ اس حال میں آپ کا یہ دعوی کرنا کہ جو لوگ اپنے پہلے : - جو لوگ اپنے پہلے نبیوں سے بیزار ہو کر نیچر کی اتباع میں مشغول ہیں آپ کو مان لیں گے بظاہر نا ممکن الوقوع دعوی تھا۔ پھر آپ اردو اور عربی اور فارسی کے سوا اور کوئی زبان نہیں جانتے تھے اور آپ ہندوستان کے باشندے تھے جس ملک کے باشندے آج سے تیس سال پہلے عرب اور ایران میں نہایت حقیر سمجھے جاتے تھے کب امید کی جا سکتی تھی کہ عرب، ایران افغانستان، شام اور مصر کے باشندے ایک ہندوستانی پر ایمان لے آئیں گے کون کہہ سکتا تھا کہ ہندوستان کے انگریزی پڑھے ہوئے لوگ جو جو قرآن کریم کو محمد رسول اللہ ﷺ کا کلام قرار دینے لگ گئے تھے اس بات کو مان لیں گے کہ اس زمانے میں بھی اللہ تعالٰی اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے اور پھر ایسے آدمی سے جو انگریزی کا ایک لفظ نہیں جانتا جو ان کے نزدیک سب سے بڑا گناہ تھا پھر کونسی عقل تھی جو یہ تجویز کر سکتی تھی کہ اکتہ مغربیہ سے ناواقف علوم مغربیہ سے ناواقف رسوم و عادات مغربیہ سے ناواقف انسان جو اپنے صوبہ سے بھی باہر کبھی نہیں گیا ( حضرت اقدس علیہ السلام پنجاب سے باہر صرف علی گڑھ تک تشریف لے گئے ہیں وہ ان ممالک کے لوگوں تک اپنے خیالات کو پہنچادے گا اور پھر وہ علوم و فنون جدیدہ کے ماہر اور ایشیائیوں کو کیڑوں مکوڑوں سے بدتر سمجھنے والے لوگ اس کی باتوں کو سن بھی لیں گے اور مان بھی لیں گے اور پھر کسی شخص کے ذہن میں آسکتا تھا کہ افریقہ کے باشندے جو ایشیا سے بالکل منقطع ہیں اس کی باتوں پر کان دھریں گے اور اس پر ایمان لائیں گے حالانکہ ان کی زبان جاننے والا ہندوستان بھر میں کوئی نہیں مل سکتا۔ یہ سب روکیں ایک طرف تھیں اور اللہ تعالی کا کلام ایک طرف تھا آخر وہی ہوا جو اللہ تعالی نے کہا تھا۔ وہ شخص جو تن تنہا ایک تنگ صحن میں مثل مثل کر اپنے الہامات لکھ رہا تھا اور تمام دنیا میں اپنی قبولیت کی خبریں دے رہا تھا حالانکہ اس وقت اسے اس کے علاقے کے لوگ بھی نہیں جانتے تھے با وجو د سب روکوں کے اللہ تعالٰی کی نصرت اور تائید سے اٹھا اور ایک بادل کی طرح گر جا اور لوگوں کے دیکھتے دیکھتے حاسدوں اور دشمنوں کے کلیجوں کو چھلنی کرتا ہو ا تمام آسمان پر چھا گیا ہندوستان میں وہ برسا افغانستان میں وہ برسا عرب میں وہ برساء مصر میں وہ برسا سیلون میں وہ برسا، بخارا میں وہ برساء مشرقی افریقہ میں وہ برسا جزیرہ ماریشس میں وہ برسا جنوبی افریقہ