انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 566

انوار العلوم جلدے ۵۶۶ دعوة الامير ایک دو ہزار آدمیوں تک ترقی کر چکی تھی مگر ان میں سے ہر ایک دشمنوں کے حملوں کا شکار ہو رہا تھا ایک دو ہزار آدمی جو ہر وقت اپنی جان اور اپنی عزت اور اپنی جائیداد اور اپنے مال کی حفاظت کی فکر میں لگے ہوئے ہوں اور رات دن لوگوں کے ساتھ مباحثوں اور جھگڑوں میں مشغول ہوں ان کا تمام دنیا میں اشاعت اسلام کیلئے روپیہ بہم پہنچانا اور دین سیکھنے کی غرض سے قادیان آنے والوں کی مہمان داری کا بوجھ اٹھانا اور پھر اپنے مظلوم مہاجر بھائیوں کے اخراجات برداشت کرنا ایک حیرت انگیز بات ہے۔ سینکڑوں آدمی دونوں وقت جماعت کے دستر خوان پر کھانا کھاتے تھے اور بعض غرباء کی دوسری ضروریات کا بھی انتظام کرنا پڑتا تھا۔ ہجرت کر کے آنے والوں کی کثرت اور مہمانوں کی زیادتی سے مہمان خانے کے علاوہ ہر ایک گھر مہمان خانہ بنا ہوا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر کی ہر ایک کوٹھڑی ایک مستقل مکان تھا جس میں کوئی نہ کوئی مہمان یا مهاجر خاندان رہتا تھا، غرض بوجھ انسانی طاقت برداشت سے بہت بڑھا ہوا تھا۔ ہر صبح جو چڑھتی اپنے ساتھ تازہ ابتلاء اور تازہ ذمہ داریان لاتی اور ہر شام جو پڑتی اپنے ساتھ تازہ ابتلاء اور تازہ ذمہ داریاں لاتی مگر أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ کی نسیم سب فکروں کو خس و خاشاک کی طرح اُڑا کر پھینک دیتی اور وہ بادل جو ابتداء سلسلہ کی عمارت کی بنیادوں کو اکھاڑ کر پھینک دینے کی دھمکی دیتے تھے تھوڑی ہی دیر میں رحمت اور فضل کے بادل ہو جاتے اور ان کی ایک ایک بوند کے گرتے وقت أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ کی ہمت افزا آواز پیدا ہوتی۔ اس صعوبت کے زمانے کا نقشہ میرے نزدیک افغانستان کے لوگ اچھی طرح اپنے ذہنوں میں پیدا کر سکتے ہیں کیونکہ پچھلے دنوں میں وہاں بھی مہاجرین کا ایک گروہ گیا تھا افغانستان ایک با قاعدہ حکومت تھی جو ان کے انتظام میں مشغول تھی پھر ان میں سے بہت سے لوگ اپنے اخراجات خود بھی برداشت کرتے تھے مہمانوں کی نسبت میزبانوں کی تعداد بہت زیادہ تھی افغانستان کے ایک کروڑ کے قریب باشندے صرف ایک دولاکھ آدمیوں کے مہمان دار بنے تھے مگر باوجود اس کے مہمان داری میں کسی قدر وقتیں پیش آئیں اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دو ہزار غریب آدمیوں کی جماعت پر جب ایک ہی وقت میں سینکڑوں مہمانوں اور غریب مہاجرین کا بوجھ پڑا ہو گا اور ساتھ ہی اشاعت اسلام کے کام کیلئے بھی ان کو روپیہ خرچ کرنا پڑتا ہو گا اور وہ بھی ایسے وقت میں جب کہ ان کے اپنے گھروں میں بھی لڑائی جاری تھی تو ان لوگوں کی گردنیں کس قدر بار کے نیچے دب گئی ہوں گی۔