انوارالعلوم (جلد 7) — Page 562
۵۶۲ بھی پیدا کرنی شروع کر دی کہ وہ قادیان آکر بسیں اور لوگوں نے بلا کسی تحریک کے شہروں اور قصبوں کو چھوڑ کر قادیان آکر بسنا شروع کر دیا اور ان کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں نے بھی یہاں آکر بسنا شروع کر دیا- ابھی اس پیشگوئی کے پوری طرح پورے ہونے میں تو وقت ہے مگر جس حد تک یہ پیشگوئی پوری ہو چکی ہے وہ بھی حیرت انگیز ہے- اس وقت قادیان کی آبادی ساڑھے چار ہزار یعنی دوگنی سے بھی زیادہ ہے فصیل کی جگہ مکانات بن کر قصبے نے باہر کی طرف پھیلنا شروع کر دیا ہے اور اس قوت قصبے کی پرانی آبادی سے قریباً ایک میل تک نئی عمارات بن چکی ہیں اور بڑی بڑی پختہ عمارات اور کھلی سڑکوں نے ایک چھوٹے سے قصبے کو ایک شہر کی حیثیت دیدی ہے بازار نہایت وسیع ہو گئے ہیں اور ہزاروں کا سودا انسان جس وقت چاہے خرید سکتا ہے- ایک پرائمری سکول کی بجائے دو ہائی سکول بن گئے ہیں جن میں ایک ہندوؤں کا سکول ہے- ایک گرل سکول ہے اور ایک علوم دینیہ کا کالج- ڈاک خانہ جس میں ایک ہفتے میں دو دفعہ ڈاک آتی تھی اور سکول کا مدرس الاؤنس لے کر اس کا کام کر دیا کرتا تھا- اب اس میں سات آٹھ آدمی سارا دن کام کرتے ہیں- تب جاکر کام ختم ہوتا ہے اور تار کا انتظام ہو رہا ہے ایک ہفتے میں دو بار نکلنے والا اخبار شائع ہوتا ہے- دو ہفتے وار اردو اور ایک ہفتے وار انگریزی اخبار شائع ہوتے ہیں ایک پندرہ روزہ اخبار شائع ہوتا ہے اور دو ماہوار رسالے شائع ہوتے ہیں` پانچ پریس جاری ہیں- جن میں سے مشین پریس ہے بہت سی کتب ہر سال شائع ہوتی ہیں- بڑے بڑے شہروں کی ڈاک ادھر ادھر ہو جائے تو ہو جائے مگر قادیان کا نام لکھ کر خط ڈالیں تو سیدھا یہی پہنچتا ہے غرض نہایت مخالف حالات میں قادیان نے وہ ترقی کی ہے جس کی مثال دنیا کے پردے پر کسی جگہ بھی نہیں مل سکتی` اقتصادی طور پر شہروں کی ترقیات کے لیے جو اصول مقرر ہیں ان سب کے علی الرغم اس نے ترقی حاصل کر کے اللہ تعالیٰٰ کے کلام کی صداقت ظاہر کی ہے جس سے وہ لوگ جو قادیان کی پہلی حالت اور اس کے مقام کو جانتے ہیں` خواہ وہ غیر مذاہب کے ہی کیوں نہ ہوں اس بات کا اقرار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ بیشک ’’یہ غیر معمولی اتفاق ہے‘‘- مگر افسوس لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ کیا سب غیر معمولی اتفاق مرزا صاحب ہی کے ہاتھ پر جمع ہو جاتے تھے-