انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 561 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 561

انوار العلوم جلدے ۵۶۱ دعوة الامير سڑک بالکل کچی ہے اور جن ملکوں میں ریل ہو ان میں اس کے کناروں پر جو شہر واقع ہوں انہیں کی آبادی بڑھتی ہے کوئی کارخانہ قادیان میں نہ تھا کہ اس کی وجہ سے مزدوروں کی آبادی کے ساتھ شہر کی ترقی ہو جائے کوئی سرکاری محکمہ قادیان میں نہ تھا کہ اس کی وجہ سے قادیان کی ترقی ہو، نہ ضلع کا مقام تھا نہ تحصیل کا حتی کہ پولیس کی چوکی بھی نہ تھی ، قادیان میں کوئی منڈی بھی نہ تھی جس کی وجہ سے یہاں کی آبادی ترقی کرتی۔ جس وقت یہ پیشگوئی کی گئی ہے اس وقت حضرت اقدس علیہ السلام کے مرید بھی چند سو سے زیادہ نہ تھے کہ ان کو حکماً لا کر یہاں بسا دیا جاتا تو شہر بڑھ جاتا۔ آبادی بے شک کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ آپ نے دعوی کیا تھا اس لئے امید تھی کہ آپ کے مرید یہاں آکر بس جائیں گے لیکن اول تو کون کہہ سکتا تھا کہ اس قدر مرید ہو جائیں گے جو قادیان کی کو آکر بڑھا دیں گے ، دوم اس کی مثال کہاں ملتی ہے کہ مرید اپنے کام کاج چھوڑ کر پیر ہی کے پاس آبیٹھیں اور وہیں اپنا گھر بنالیں ۔ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کا مولد ناصرہ اب تک ایک گاؤں ہے حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی، حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثمانی حضرت بہاؤ الدین صاحب نقشبند رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِمْ جو معمولی قصبات میں پیدا ہوئے یا وہاں جاکر بسے ان کے مولد یا مسکن ویسے کے ویسے ہی رہے ان میں کوئی ترقی نہ ہوئی یا اگر ہوئی تو معمولی جو ہمیشہ ترقی کے زمانے میں ہو جاتی ہے ۔ شہروں کا بڑھنا تو ایسا مشکل ہوتا ہے کہ بعض دفعہ بادشاہ بھی اگر اقتصادی پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے شہر بساتے ہیں تو ان کے بسائے ہوئے شہر ترقی نہیں کرتے اور کچھ دنوں بعد اُجڑ جاتے ہیں اور قادیان موجودہ اقتصادی پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے نہایت خراب جگہ واقع ہے نہ تو ریل کے کنارے پر ہے کہ لوگ تجارت کی خاطر آکر بس جائیں اور نہ ریل سے اس قدر دور ہے کہ لوگ بوجہ ریل سے دور ہونے کے اس کو اپنا تمدنی مرکز قرار دے لیں پس اس کی آبادی کا ترقی پانا بظا ہر حالات بالکل نا ممکن تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ قادیان کسی دریا یا نہر کے کنارے پر بھی واقع نہیں کہ یہ دونوں چیزیں بھی بعض دفعہ تجارت کے بڑھانے اور تجارت کو ترقی دے کر قصبے کی آبادی کے بڑھانے میں محمد ہوتی ہیں۔ غرض بالکل مخالف حالات میں اور بلا کسی ظاہری سامان کی موجودگی کے حضرت اقدس مسیح موعود نے پیشگوئی کی کہ قادیان بہت ترقی کر جائے گا اس پیشگوئی کے شائع ہونے کے بعد اللہ تعالٰی نے آپ کی جماعت کو بھی ترقی دینی شروع کر دی اور ساتھ ہی ان کے دلوں میں یہ خواہش