انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 560 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 560

۵۶۰ دسویں پیشگوئی قادیان کی ترقی کا نشان اس وقت تک تو میں نے وہ نشان بیان کئے ہیں جو یا تو صرف انذار کا پہلو رکھتے تھے- یا دونوں پہلوؤں پر مشتمل تھے اب میں تین ایسے نشان بیان کرتا ہوں جو خالص تبشیر کا پہلو اپنے اندر رکھتے ہیں یہ تین مثالیں جو میں بیان کرونگا یہ بھی ایسی ہی ہیں کہ بوجہ اپنی عمومیت کے دوست اور دشمن میں شائع ہیں اور ہر مذہب وملت کے لوگوں میں سے اس کے گواہ مل سکتے ہیں اور اس وقت سے کہ ان کا علم اللہ تعالیٰٰ کی طرف سے دیا گیا` حضرت اقدسؑ علیہ السلام کی کتب اور ڈائریوں میں شائع ہوتی چلی آئی ہیں- سب سے پہلے میں اس پیشگوئی کا ذکر کرتا ہوں جو قادیان کی ترقی کے متعلق ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت اقدسؑ کو بتایا گیا کہ قادیان کا گاؤں ترقی کرتے کرتے ایک بہت بڑا شہر ہو جائے گا جیسے کہ بمبئی اور کلکتہ کے شہر ہیں- گویا نو دس لاکھ آبادی تک پہنچ جائے گا اور اس کی آبادی سشالاً اور شرقاً پھیلتے پھیلتے ہوئے بیاس تک پہنچ جائے گی جو قادیان سے نو میل کے فاصلے پر بہنے والے ایک دریا کا نام ہے- یہ پیشگوئی جب شائع ہوئی ہے- اس وقت قادیان کی حالت یہ تھی کہ اس کی آبادی دو ہزار کے قریب تھی` سوائے چند ایک پختہ مکانات کے باقی سب مکانات کچے تھے` مکانوں کا کرایہ اتنا گرا ہوا تھا کہ چار پانچ آنے ماہوار پر مکان کرایہ پر مل جاتا تھا` مکانوں کی زمین اس قدر ارزاں تھی کہ دس بارہ روپے کو قابل سکونت مکان بنانے کے لئے زمین مل جاتی تھی` بازار کا یہ حال تھا کہ دو تین روپے کا آٹا ایک وقت میں نہیں مل سکتا تھا` کیونکہ لوگ زمیندار طبقہ کے تھے اور خود دانے پیس کر روٹی پکاتے تھے تعلیم کے لیے ایک مدرسہ سرکاری تھا جو پرائمری تک تھا اور اسی کا مدرس کچھ الاونس لیکر ڈاکخانے کا کام بھی کر دیا کرتا تھا` ڈاک ہفتے میں دو دفعہ آتی تھی` تمام عمارتیں فیصل قصبہ کے اندر تھیں اور اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے ظاہری کوئی سامان نہ تھے کیونکہ قادیان ریل سے گیارہ میل کے فاصلے پر واقع ہے اور اس کی