انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 558 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 558

انوار العلوم جلدے ۵۵۸ دعوة الامير بڑھتا گیا کچھ ہی دور آگے ٹرین گئی تھی کہ معلوم ہوا بغاوت ہو گئی ہے اور باغیوں نے دفاتر وزارت پر قبضہ کر لیا ہے اور ملکی حکومت قائم ہو گئی ہے یہ سب کچھ ایک ہی دن میں ہو گیا، یعنی ۱۲ مارچ ۱۹۱۷ء کی صبح سے شام تک دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ اختیار رکھنے ولا بادشاہ جو اپنے آپ کو زار کہتا تھا یعنی کسی کی حکومت : رمت نہ ماننے والا اور سب پر حکومت کرنے والا وہ حکومت سے بے دخل ہو کر اپنی رعایا کے ماتحت ہو گیا اور ۱۵- مارچ کو مجبوراً اسے اپنے ہاتھ حضرت سے یہ اعلان لکھنا پڑا کہ وہ اور اس کی اولاد تخت روس سے روس سے دست بردار ہوتے ہیں اور اقدس کی پیشگوئی کے مطابق زاروں کے خاندان کی حکومت کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہو گیا مگر ابھی اللہ کے کلام کے بعض حصوں کا پورا ہونا باقی تھا۔ نکولس ۳۰۳۔ ثانی (زار روس) یہ سمجھا تھا کہ وہ حکومت سے بے دخل ہو کر اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی جان بچالے گا اور خاموشی سے اپنی ذاتی جائیدادوں کی آمدن پر گزارہ کر لے گا مگر اس کا یہ ارادہ اس کا یہ ارادہ پورا نہ ہو سکا ۱۵ مار سکا ۱۵- مارچ کو وہ حکومت سے دست بردار ہوا اور ۲۱ مارچ کو قید کر کے سکو سیلو (SKOSILO) بھیج دیا گیا اور بائیس کو امریکہ نے اور چوبیس ۲۴ کو انگلستان ، فرانس اور اٹلی نے باغیوں کی حکومت تسلیم کرلی اور زار کی سب امیدوں پر پانی پھر گیا۔ اس نے دیکھ لیا کہ اس کی دوست حکومتوں نے جن کی مدد پر اسے بھروسہ تھا اور جن کیلئے وہ جرم وہ جرمن سے جنگ کر رہا تھا ایک ہفتہ کے اندر اندر اس کی باغی رعایا کی حکومت تسلیم کرلی ہے اور اس کی تائید میں کمزور سی آواز بھی نہیں اٹھائی مگر اس تکلیف سے زیادہ تکلیفیں اس کیلئے مقدر تھیں تاکہ وہ اپنی زار حالت سے اللہ تعالٰی کے کلام کو پورا کرے ۔ گو وہ قید ہو چکا تھا مگر روس کی حکومت کی باگ شاہی خاندان کے ایک فرد شہزادہ دلواؤ (DILVAO) کے ہاتھ میں تھی جس کی وجہ سے قید میں اس کے ساتھ احترام کا سلوک ہو رہا تھا اور وہاں اپنے بچوں سمیت باغبانی اور اس قسم کے دوسرے مشغلوں میں وقت گزارتا تھا مگر جولائی میں اس شہزادہ کو بھی علیحدہ ہونا پڑا اور حکومت کی باگ کر نسکی ۳۰۴۔ (KERENSKY) کے ہاتھ میں دی گئی۔ جس سے قید کی سختیاں بڑھ گئیں ، تاہم انسانیت کی حدود سے آگے نہیں نکلی تھیں لیکن سات ہے ۔ نومبر کو بولشویک بغاوت نے کرنسکی کی حکومت کا خاتمہ کر دیا اب زار کی وہ خطر ناک حالت شروع ہوئی جسے سن کر سنگدل سے سنگدل انسان بھی کانپ جاتا ہے ۔ زار کو سکو سیلو کے شاہی محل سے نکال کر مختلف جگہوں میں رکھا گیا اور آخر ان مظالم کی یاد دلانے کیلئے جو وہ سائبیریا کی قید کے ذریعے اپنی بیکس رعایا پر کیا کرتا تھا اکیشیوں بھی