انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 37

انوار العلوم - جلدے ۳۷ تقریر جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۶۱۹۲۲ جس کا جرم تمہارے نزدیک ثابت نہیں اس کو بری سمجھو اور جو کسی کا عیب بیان کرتا ہے اس کا جرم تمہارے نزدیک ثابت ہے۔ پس تہمتوں کو دور کرنا بھی نیکی ہے۔ تم ہمیشہ تہمت کاذب کرواس سے حسن ظنی پیدا ہوتی ہے۔ لوگوں سے خوش چہرہ سے ملنا بھی نیکی ہے اور اس کا بڑا اثر ہوتا ۹ خوش چہرہ سے ملنا ہے۔ قرآن کریم نے بھی اس کو خاص طور پر بیان کیا ہے ۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ مجھ سے مصافحہ کرنے والا میرا ہاتھ مروڑ دیتا ہے مگر میں اس وقت بھی مسکراتا ہوں تاکہ اس کو رنج نہ پہنچے۔ پس یہ ایک ایسی نیکی ہے جس سے دوسری بہت سی نیکیاں پیدا ہوتی ہیں اور بہت سی بدیاں دور ہو جاتی ہیں۔ پھر محبت سے کلام کرنا بھی نیکی ہے۔ بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کسی ۱۰- محبت سے کلام کا کام تو کر دیں گے مگر محبت سے بات نہیں کر سکیں گے ایسے لوگوں کے لئے محبت سے بات کرنا بھی نیکی ہے۔ بریکی وزیر کے متعلق ایک شخص لکھتا ہے کہ میرے باپ اور اس کے باپ کی باہمی دشمنی تھی مجھے ایک حاجت پیش آئی چونکہ اس کی داد و دہش عام تھی اس لئے میں بھی اس کے پاس گیا اور اپنی حاجت بیان کی۔ وہ نہایت ترش رو ہو کر اٹھ گیا اور اس نے میری بات بھی نہ پوچھی لیکن میں جب واپس آگیا تو میں نے دیکھا کہ مچھریں روپوں سے لدی ہوئی اس نے میرے ہاں بھیج دیں۔ ان پر اتار و پیہ تھا کہ قرضہ اتار کر بھی میرے پاس بیچ رہا۔ دیکھو اس نے روپے تو بھیج دیئے اور یہ بڑی نیکی کی مگر اس سے محبت کے ساتھ بات نہ کر سکا اور اسلامی نقطہ خیال سے اس نے یہ گناہ کیا۔ لوگوں کے حقوق اور مال کی حفاظت دوسروں کے حقوق اور مال کی حفاظت کرنا بھی نیکی ہے۔ عام لوگ اس میں بھی کوتاہی کرتے ہیں اور اپنی جگہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے تو کوئی گناہ نہیں کیا۔ مثلاً کسی کا کھیت جانور چر رہے ہوں اگر کھیت والا وہاں نہیں تو اس کی حفاظت کرنا نیکی ہے اور مومن کا فرض ہے کہ اس وقت خود اس کھیت کا مالک بن جائے اور اس کی حفاظت کرے کیونکہ دراصل مال تو خدا ہی کا ہے۔ یہ بھی نیکی ہے۔ بتائی سے وہ مراد ہیں جن کے ۱۲ بتائی اور بیواؤں سے سلوک ہے وارث اٹھ گئے ہوں۔ بندے تو سارے خدا ہی