انوارالعلوم (جلد 7) — Page 526
انوار العلوم جلدے ۵۲۶ دعوة الامير ایک دفعہ ایسا ہوا کہ مسلمانوں اور مسیحیوں نے حضرت اقدس علیہ السلام اور ان کے درمیان امرتسر میں مباحثہ کرو ا د یا مباحثہ میں عبد اللہ آتھم صاحب بہت کچھ ہاتھ پیر مارتے رہے مگر ان سے کچھ نہ بنا اور اپنوں پرایوں میں ان کو بہت ذلت نصیب ہوئی۔ چونکہ دوران مباحثہ میں معجزات کا بھی ذکر آیا تھا اس لئے اللہ تعالی نے نہ چاہا کہ یہ مباحثہ بغیر کسی اعجاز کے خالی چلا جائے اور آپ کو الہاما بتایا گیا کہ ” اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمد اجھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور بچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا اپنا رہا ہے وہ انہیں دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے"۔ ۲۶۵۔ جب آخری پرچہ آپ کی طرف سے لکھا گیا تو اس میں آپ نے یہ پیشگوئی بھی شامل کر دی اور لکھا کہ اگر یہ پیشگوئی پوری ہو گئی تو اس سے ثابت ہو گا کہ رسول کریم اللہ جن کو تم نے اپنی کتاب ” اندرونہ بائبل میں نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ رجال لکھا ہے خدا کے فرستادہ اور رسول تھے ۔ اس پیشگوئی میں دو باتیں بتائی گئی تھیں، اول یہ کہ مسیح علیہ السلام کو خدا بنانے والا فریق ڈپٹی آتھم پندرہ ماہ کے اندر اپنی ضد اور تعصب کی وجہ سے اور بد گوئی کے سبب سے ہادیہ میں گرایا جاوے گا۔ دوم یہ کہ اگر یہ فریق حق کی طرف رجوع کرے اور اپنی بات پر پشیمان ہو اور اپنی غلطی کو سمجھ جائے تو اس صورت میں وہ اس عذاب سے بچایا جائے گا۔ اگر دوسرا فریق حق کی طرف رجوع نہ کرتا اور اپنی ضد پر قائم رہتا اور ہلاک نہ ہو جاتا تو پیشگوئی غلط ہو جاتی اور اگر وہ رجوع کرتا اور پندرہ ماہ کے عرصہ میں مر جاتا تو بھی پیشگوئی جھوٹی ہو جاتی کیونکہ یہ پیشگوئی بتا رہی تھی کہ اللہ تعالی کے نزدیک آتھم کی عمر پندرہ ماہ سے زائد ہے اسی صورت میں وہ پندرہ ماہ کے عرصے میں مرے گا جبکہ وہ ضد پر قائم رہے۔ ایک ادنیٰ غور سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اس پیشگوئی کی دونوں صورتوں میں سے دوسری صورت کے دونوں پہلو پہلی صورت کے دونوں پہلوؤں سے زیادہ شاندار ہیں کیونکہ پہلی صورت کے دو پہلو یہ تھے کہ اگر آتھم ضد پر قائم رہا تو پندرہ ماہ میں مر جائے گا اور آتھم کا ضد پر قائم رہنا ایک طبعی امر تھا کیونکہ مسیحیوں کا ایک بڑا عالم تھا متعدد کتب مسیحیت کی تائید میں اور اسلام کے خلاف لکھ چکا تھا، دنیاوی حیثیت سے بھی نہایت معزز تھا اور انگریزوں کے ساتھ اس کے بہت سے تعلقات تھے ۔ اس عظیم الشان مباحثہ میں تمام پادریوں کو چھوڑ کر اسے مقابلہ کیلئے منتخب کیا گیا تھا اور بڑے بڑے پادری