انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 522

۵۲۲ غرض ایک لمبے عرصے کے بعد اللہ تعالیٰٰ کا کلام لفظاً لفظاً پورا ہوا اور اس نے اپنے قہری نشانوں سے اپنے مامور کی شان کو ظاہر کیا اور صاحب بصیرت کے لیے ایمان لانے کا راستہ کھول دیا کون کہہ سکتا ہے کہ اس قسم کی پیشگوئی کرنا کسی انسان کا کام ہے- کونسا انسان اس حالت میں جب کہ اس پر ایک شخص بھی ایمان نہیں لایا یہ خبر شائع کر سکتا تھا کہ اس پر کسی زمانے میں کثرت سے لوگ ایمان لے آئیں گے حتیٰ کہ اس کا سلسلہ اس ملک سے نکل کر باہر کے ممالک میں پھیل جائے گا اور پھر وہاں اس کے دو مرید صرف اس پر ایمان لانے کی وجہ سے نہ کہ کسی اور جرم کے سبب سے شہید کئے جاوینگے اور جب ان دونوں کی شہادت ہو چکے گی تو اللہ تعالیٰ اس علاقے پر ایک ہلاکت نازل کرے گا جو ان کے لئے قیامت کا نمونہ ہو گی اور بہت سے لوگ اس سے ہلاک ہونگے- اگر بندہ بھی اس قسم کی خبریں دے سکتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے کلام اور بندوں کے کلام میں فرق کیا رہا؟ میں اس جگہ اس شبہ کا ازالہ کر دینا پسند کرتا ہوں کہ الہام میں لفظ کل من علیھا فان ہے یعنی اس سر زمین کے سب لوگ ہلاک ہو جائیں گے` لیکن سب لوگ ہلاک نہ ہوئے کچھ لوگ ہلاک ہوئے اور بہت سے بچ گئے` اصل بات یہ ہے کہ عربی زبان کے محاورے میں کل کا لفظ کبھی عمومیت کے لیے اور کبھی بعض کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے- ضروری نہیں کہ اس لفظ کے معنی جمع کے ہی ہوں` چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ مکھی کو اللہ تعالیٰ نے وحی کی کہ من کل الثمرات حالانکہ ہر مکھی سارے پھلوں کو نہیں کھاتی- پس اس کے معنے یہی ہیں کہ پھلوں میں سے بعض کو کھا` اسی طرح ملکہ سبا کے متعلق فرماتا ہے واویت من کل شی ء )النمل(24: اس کو ہر ایک چیز دی گئی تھی` حالانکہ وہ دنیا کے ایک نہایت مختصر علاقہ کی بادشاہ تھی- پس اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ دنیا کی نعمتوں میں سے کچھ اس کو دی تھیں- ہاں یہ ضروری ہوتا ہے کہ جب کل کا لفظ بولا جائے تو وہ اپنے اندر ایک عمومیت رکھتا ہو اور کل افراد میں سے ایک نمایاں حصہ اس میں آجائے اور یہ دونوں باتیں وبائے ہیضہ میں جو شہید مرحوم کی شہادت کے بعد کابل میں پڑی جاتی تھیں` ہر ایک جان اس کے خوف سے لرزاں تھی اور ایک بڑی تعداد آدمیوں کی اس کے ذریعے ہلاک ہوئی حتیٰ کہ ایک انگریز مصنف جو اس الہام کی حقیقت سے بالکل ناواقف تھا اسے بھی اپنی کتاب میں اس ہیضے کا خاص طور پر نمایاں کر کے ذکر کرنا پڑا-