انوارالعلوم (جلد 7) — Page 521
انوار العلوم جلدے ۵۲۱ دعوة الامير کہ غیر اقوام کی طرف سے مذہبی دست اندازی ہو ان کے ساتھ جہاد کے نام پر جنگ نہیں کرنی چاہئے تا اسلام پر حرف نہ آئے۔ سیاسی فوائد کی حفاظت کیلئے اگر جنگ کی ضرورت پیش آئے تو بے شک جنگ کریں مگر اس کا نام جہاد نہ رکھیں کیونکہ وہ فتح جس کیلئے اسلام کی نیک نامی کو قربان کیا جائے اس شکست سے بدتر ہے جس میں اسلام کی عزت کی حفاظت کرلی گئی ہو ۔ غرض بلاوجہ اور امیر حبیب اللہ خان صاحب کو غلط واقعات بتا کر سید عبداللطیف صاحب کو شہید کرا دیا گیا اور اس طرح الہام کا پہلا حصہ مکمل طور پر پورا ہو گیا کہ شَاتَانِ تُذْبَحَانِ۔ اس جماعت کے دو نہایت وفادار اور اطاعت گزار آدمی با وجود ہر طرح بادشاہ وقت کے فرمانبردار ہونے کے ذبح کر دیئے جائیں گے اور وہ حصہ پورا ہونا باقی رہ گیا کہ اس واقعہ کے بعد اس سر زمین پر عام تباہی آئے گی اور اس کے پورا ہونے میں بھی دیر نہیں لگی۔ ابھی صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب کی شہادت پر ایک ماہ بھی نہ گزرا تھا کہ کابل میں سخت ہیضہ پھوٹا اور اس کثرت سے لوگ ہلاک ہوئے کہ بڑے اور چھوٹے اس مصیبت نا گہانی سے گھبرا گئے اور لوگوں کے دل خوف زدہ ہو گئے اور عام طور پر لوگوں نے محسوس کر لیا کہ یہ بلا اس سید مظلوم کی وجہ سے ہم پر پڑی ہے جیسا کہ ایک بے تعلق شخص مسٹراے فرنک مارٹن ۲۵۶ کی جو کئی سال تک افغانستان کی حکومت میں انجینئر انچیف کے عہدے پر ممتاز رہ چکے ہیں، کی اس شہادت سے ثابت ہوتا ہے جو انہوں نے اپنی کتاب مسمی بہ ”انڈر دی ابسولیٹ امیر » ۲۵۷۔ میں بیان کی ہے۔ یہ ہیضہ بالکل غیر مترقبہ تھا۔ کیونکہ افغانستان میں ہیضے کے پچھلے دوروں پر نظر کرتے ہوئے ابھی اور چار سال تک اس قسم کی وباء نہیں پھوٹ سکتی تھی۔ پس یہ ہیضہ اللہ تعالی کا ایک خاص نشان تھا جس کی خبر وہ اپنے مامور کو قریباً اٹھائیس سال پہلے دے چکا تھا اور عجیب بات یہ ہے کہ اس پیشگوئی کی مزید تقویت کیلئے اس نے صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کو بھی اس امر کی اطلاع دے دی تھی چنانچہ انہوں نے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ میں اپنی شہادت کے بعد ایک قیامت کو آتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ اس مہینے کا اثر کابل کے ہر گھرانے پر پڑا۔ جس طرح عوام الناس اس حملے سے محفوظ نہ رہے امراء بھی محفوظ نہ رہے اور ان گھرانوں میں بھی اس نے ہلاکت کا دروازہ کھول دیا جو ہر طرح کے حفظانِ صحت کے سامان مہیا رکھتے تھے اور وہ لوگ جنہوں نے شہید سید کے سنگسار کرنے میں خاص حصہ لیا تھا خاص طور پر پکڑے گئے اور بعض خود مبتلاء ہوئے اور بعض کے نہایت قریبی رشتہ دار ہلاک ہوئے ۔