انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 516

انوارالعلوم جلدے ۵۱۶ دعوة الامير از مشرق معانی صدها دقائق آورد قد هلال نازک زاں ناز کی خمیدہ کیفیت علومش دانی چه شان دارد؟ شهدیست آسمانی از وحی حق چکیده آن نیر صداقت چون رو بعالم آورد هر بوم شب پرستی در کنج خود خزیده روئے یقیں نہ ببند ہرگز کے بدنیا الا کے که باشد با رویش آرمیده آن کس که عالمش شد شد مخزن معارف و آں بے خبر ز عالم کیں عالمے ندیدہ باران فضل رحمن آمد بمقدم او بد قسمت آنکہ از وے سوئے دگر دویده میل بدی نباشد الا رگے ز شیطان آن را بشر بدانم کزہر شرے رہیدہ اے کان دلربائی، دانم که از کجائی - تو نورِ آں خدائی کیں خلق آفریدہ میلم نماند باکس محبوب من توئی بس زیرا که زال فغاں رس نورت بما رسید دسویں دلیل Yor دسویں دلیل آپ کی صداقت کی کہ وہ بھی در حقیقت سینکڑوں بلکہ ہزاروں دلائل پر مشتمل ہے یہ ہے کہ آپ کو اللہ تعالی نے نہایت کثرت سے اپنے غیب پر مطلع کیا تھا پس معلوم ہوا کہ آپ خدا کے فرستادہ تھے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولِ ۲۵۲ یعنی وہ غیب پر کثرت سے اطلاع نہیں دیتا مگر اپنے رسولوں کو اظهَرَ عَلَيْهِ کے سنتے ہیں اس کو اس پر غلبہ دیا) پس جس شخص کو کثرت سے امور غیبیه پر اطلاع ملے اور اس پر وحی مصفی پانی کی طرح ہو جو ہر قسم کی کدورت سے پاک ہو اور روشن نشان اس کو دیئے جاویں اور عظیم الشان امور سے قبل از وقت اسے آگاہ کیا جائے وہ اللہ تعالیٰ کا مأمور ہے اور اس کا انکار کرنا گویا قرآن کریم کا انکار کرنا ہے جس نے یہ قاعدہ بیان فرمایا ہے اور سب نبیوں کا انکار کرنا ہے جنہوں نے اپنی صداقت کے ثبوت میں ہمیشہ اس امر کو پیش کیا ہے۔ چنانچہ بائبل میں بھی آتا ہے کہ جھوٹے نبی کی علامت ہے کہ جو بات وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہے وہ پوری نہ ہو ۔ ۲۵۳