انوارالعلوم (جلد 7) — Page 508
۵۰۸ تک تو لوگ اس میں سے معانی اور معارف اخذ کریں اور اس کے بعد وہ اس کان کی طرح ہو جائے جس کا خزانہ ختم ہو جاتا ہے- اللہ کا کلام تو مادی اشیاء کی نسبت زیادہ کثیر المعانی اور وسیع المطالب ہونا چاہئیے` اگر نئے سے نئے علوم دنیا میں نکل رہے ہیں` اگر فلسفہ اور سائنس تیزی کے ساتھ ترقی کرتے چلے جاتے ہیں اگر طبقات الارض اور علم آثار قدیمہ اور علم افعال الاعضاء اور علم نباتات اور علم حیوانات اور علم ہیئت اور علم سیاسیات اور علم اقتصاد اور علم معاملات اور علم النفس اور علم روحانیات اور علم اخلاق اور اسی قسم کے نئے علوم یا تو نئے دریافت ہو رہے ہیں یا انہوں نے پچھلے زمانے کے علوم کے مقابلہ میں حیرت انگیز ترقی حاصل کر لی ہے تو کیا اللہ تعالیٰٰ کا کلام ہی ایسا راکد ہونا چاہئیے کہ وہ اپنے پر غور کرنیوالوں کو تازہ علوم اور نئے مطالب نہ دے سکے اور سینکڑوں سال تک وہیں کا وہیں کھڑا رہے- اس وقت جس قدر بے دینی اور اللہ تعالیٰ سے دوری اور شریعت سے بعد نظر آتا ہے وہ ان علوم کے بالواسطہ یا بلاواسطہ اثر ہی کا نتیجہ ہے- پس اگر قرآن کریم اللہ کا کلام ہے تو چاہئیے تھا کہ ان علوم جدیدہ کی ایجاد یا وسعت کے ساتھ اس میں سے بھی ایسے معارف ظاہر ہوں جو یا تو ان علوم کی غلطی کو ظاہر کریں اور بدلائل انسان کو تسلی دیں یا یہ بتائیں کہ جو شبہ پیدا کیا جاتا ہے وہ درحقیقت پیدا ہی نہیں ہوتا اور صرف قدرت تدبر کا نتیجہ ہے- اس اصل کو قائم کر کے آپ نے بدلائل ثابت کیا کہ قرآن کریم میں اس زمانے کی ترقیات اور تمام حالات کا ذکر موجود ہے بلکہ اس زمانہ کی بعض جزائیات تک کا ذکر` ہے لیکن پہلے مسلمان چونکہ اس زمانہ میں نہیں پیدا ہوئے تھے وہ ان اشارات کو نہیں سمجھ سکے اور ان واقعات کو قیامت پر محمول کرتے رہے- مثلاً سورہ التکویر میں اس زمانے کی بہت ہی علامات مزکور ہیں جیسے )۱( اذا الشمس کورت )۲( واذا النجوم انکدرت )۳( واذا الجبال سیرت )۴( واذا العشار عطلت )۵( واذا الوحوش حشرت )۶( واذا الجبار سجرت )۷( واذا النفوس زوجت )۸( واذا الموء دہ سلت )۹( بای ذنب قتلت )۱۰( واذا الصحف نشرت )۱۱( واذا السماء کشطت )۱۲( واذا الجحیم سعرت )۱۳( واذا الجنہ ازلف )۱( جب سورج لپیٹا جائے گا )۳( واذا الجبال سیرت اور جب پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹائے جائیں گے- یعنی ایسے سامان نکل آئیں گے کہ ان کے ذریعے سے پہاڑوں کو کاٹا جائے گا اور ان کے اندر