انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 507 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 507

۵۰۷ علیہ وسلمم فتبارک من علم وتعلم ہر ایک برکت محمد ﷺ سے آتی ہے- پس مبارک ہے وہ جس نے سکھایا یعنی آنحضرت ﷺ اور مبارک ہے وہ جس نے سیکھا یعنی مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام - غرض علوم چونکہ قرآن کریم پر ختم ہو گئے اور جو مامور آئیں گے ان کو قرآن کریم کے خاص علوم ہی سکھائے جائیں گے نہ کوئی جدید علوم اور ان کی سچائی کی یہی علامت ہو گی کہ ان کو اللہ تعالیٰ قرآن کریم کا وسیع علم عطا فرماوے جو استدلالیوں والا نہ ہو` بلکہ صفات الہیہ کا علم ہو اور روحانی منازل کا علم ہو اور اے بادشاہ! ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت اقدسؑ مسیح موعودؑ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے علوم سے ایسا وافر حصہ دیا ہے کہ اگر یوں کہیں کہ آپ کے وقت میں قرآن کریم دوبارہ نازل ہوا ہے تو یہ کوئی مبالغہ نہ ہو گا بلکہ بالکل سچ ہو گا اور رسول کریم ﷺ کے قول کے مطابق ہو گا کیونکہ آپ سے بھی ایک روایت ہے کہ لو کان الایمان معلقا بالثریا لنا لہ رجل من فارس کہ اگر قرآن ثریا پر اڑ کر چلا جائے تو ایک شخص فارسی الاصل اس کو واپس لے آوے گا- سب سے پہلے تو میں علم قرآن کے اس حصہ کو بیان کرتا ہوں جس نے اصولی رنگ میں اسلام کو ایسی مدد دی اور مختلف ادیان کے مقابلہ میں اسلام کے مقام کو اس طرح بدل دیا کہ فاتح مفتوح ہو گیا اور غالب مغلوب- یعنی قرآن کریم جو اس سے پہلے ایک مردہ کتاب سمجھی جاتی تھی ایک زندہ کتاب بن گئی اور اس کی خوبیوں کو دیکھ کر اس کے مخالف گھبرا کر بھاگ گئے- حضرت اقدسؑ مسیح موعودؑ کے نزول سے پہلے عام طور پر مسلمانوں کا یہ خیال تھا کہ معارف قرآنیہ جو بزرگوں نے بیان کئے ہیں وہ اپنی حد کو پہنچ گئے ہیں اور اب ان سے زیادہ کچھ بیان نہیں ہو سکتا بلکہ اور جستجو کرنی فضول اور دین کے لیے مضر ہے- اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدسؑ کو یہ علم دیا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی مادی پیدائش اپنے اندر بے انتہاء اسرار رکھتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا کلام بھی اپنے اندر بے انتہاء معانی اور معارف رکھتا ہے اگر ایک مکھی جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے نہایت ادنیٰ درجہ رکھتی ہے ہر زمانے میں اپنی پوشیدہ طاقتوں کو ظاہر کرتی ہے اور اس کی بناوٹ کے رازوں اور اس کے خواص کی وسعت اور اس کی عادات کی تفاصیل کا علم زیادہ سے زیادہ حاصل ہوتا جاتا ہے چھوٹے چھوٹے گھانس اور پودوں کے نئے سے نئے خواص اور تاثیریں معلوم ہوتی جاتی ہیں تو کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام محدود ہو- کہ کچھ مدت