انوارالعلوم (جلد 7) — Page 500
۵۰۰ نویں دلیل علوم آسمانی کا انکشاف نویں دلیل آپؑ کی صداقت کی کہ درحقیقت وہ بھی بہت سے دلائل پر مشتمل ہے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر قادرانہ طور پر ایسے علوم کا انکشاف کیا جن کا حصول انسانی طاقت سے بالا ہے نبیوں کی بعثت کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو اس چشمہ تک پہنچائیں جس سے سیراب ہوئے بغیر روحانی زندگی قائم ہی نہیں رہ سکتی` یعنی تمام زندگیوں کے منبع حضرت احدیت سے ان کو وابستہ اور متعلق کر دیں اور یہ بات بلا علوم روحانیہ کے حصول کے نہیں ہو سکتی- وہی شخص اللہ کا قرب حاصل کر سکتا ہے جسے اس کی معرفت حاصل ہو اور اس کے قرب کے ذرائع معلوم ہوں اور اس کی صفات کا باریک در باریک علم رکھتا ہو اور دوسروں کو وہی شخص روحانی امور میں ہدایت کر سکتا ہے جو ان باتوں سے حصہ وافر رکھتا ہو- پس کسی ماموریت کے مدعی کا دعویٰ قابل تسلیم نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ خدا تعالیٰ کے غیر محدود علم سے حصہ نہ پائے اور اللہ تعالیٰ اس کی علمی غور وپرداخت نہ کرے- پس حضرت اقدسؑؑ کے دعوے کی سچائی کے معلوم کرنے کے کے لئے ہم اس قانون کے ذریعے سے بھی آپؑ کے دعوے پر غور کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپؑ پر کیا کیا علوم کھولے ہیں- اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے- وعلم ادم الاسماء کلھا )سورہ بقرہ ع۴: ۳۲( اور اس نے حضرت آدمؑ کو سب صفات الٰہیہ کا علم دیا اور صفات الٰہیہ کے علم کے ماتحت سب قسم کا علم آجاتا ہے کیونکہ معرفت الٰہیہ کے معنے صفات الٰہیہ کا ایسا علم ہی ہے جو مشاہدہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے- یہ علم ہر مامور کو دیا جاتا ہے- چنانچہ اللہ تعالیٰ حضرت لوطؑ کی نسبت فرماتا ہے ولوطا اتینہ حکما وعلما اور حضرت داؤد وسلیمانؑ کی نسبت فرماتا ہے- ولقد اتینا دائود وسلیمان علما ) ( اور حضرت یوسفؑ کی نسبت فرماتا ہے ولما بلغ اشدہ اتیناہ حکماو علما )یوسف ع۳ :۲۳( اور حضرت موسیٰؑ کی نسبت فرماتا ہے ولما بلغ اشدہ واستوی اتینہ حکماو علما وکذلک نجزی المحسنین )قﷺ ع۲ : ۱۵( اور آنحضرت ﷺ کی