انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 495

انوار العلوم جلدے ۴۹۵ دعوة الامير آٹھویں دلیل سجدہ ملائکہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم کو پیدا کر کے اللہ تعالی نے ملائکہ کو حکم دیا کہ اسے سجدہ کریں ۔ ۲۲۵۔ سجدہ ایک عبادت ہے اور اللہ تعالی کے سوا کسی اور چیز کے آگے سجدہ کرنا خواہ وہ کس قدر ہی عظمت اور شوکت رکھتی ہو جائز نہیں ، حتی کہ انبیاء اور انبیاء میں سے ان کے سردار محمد مصطفے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آگے بھی جائز نہیں اور یہی نہیں کہ سجدہ کرنا غیر اللہ کو جائز نہیں بلکہ سخت گناہ ہے اور اس فعل کا مرتکب اللہ تعالیٰ کے قرب اور اس کے فضل سے محروم رہ جاتا ہے پس سجدے سے مراد وہ سجدہ تو نہیں ہو سکتا جو بطور عبادت کیا جاتا ہے۔ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ پہلے زمانے میں سجدہ کرنا جائز ہو گا بعد میں منع ہو گیا کیونکہ شرک ان گناہوں میں سے نہیں جو کبھی جائز ہوں اور کبھی منع ہو جائیں۔ توحید باری اصل الاصول ہے اور اس میں کسی وقت بھی تغیر نہیں ہو سکتا اور اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ پہلے غیر اللہ کو سجدہ جائز تھا، لیکن بعد میں اس کو شرک قرار دے کر حرام کر دیا گیا تو پھر شیطان کا حق ہے کہ دعوئی کرے کہ جو بات میں پہلے کہتا تھا آخر نَعُوذُ بِاللهِ اللہ تعالیٰ کو بھی کرنی پڑی میرا بھی تو یہی عذر تھا کہ غیر اللہ کے سامنے سجدہ نہیں کر سکتا اللہ کے آگے سجدہ کرنے سے تو میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ غرض کسی صورت میں غیر اللہ کے آگے سجدہ جائز نہیں ہو سکتا نہ اب جائز ہے اور نہ پہلے کبھی جائز تھا پس ملائکہ کو سجدے کا حکم دینے سے مراد عبادت کرنے والا سجدہ تو نہیں ہو سکتا اس سے ضرور کچھ اور مراد ہے اور وہ مراد مطابق لغت عربی کامل فرمانبرداری ہے ۔ جس طرح سجدہ کے معنے سجدہ عبادت کے ہیں سجدے کے معنے اطاعت کے بھی ہیں۔ لسان العرب کی جلد ۴ میں لفظ سجد کے۔ کے نیچے لکھا ہے وَكُلُّ مَنْ ذَلَّ وَخَضَعَ لِمَا أُمِرَ بِهِ فَقَدْ سَجَدَ ٢٢٦، یعنی جس