انوارالعلوم (جلد 7) — Page 493
۴۹۳ لوگوں نے یہ کہا اللہ تعالیٰ جھوٹے کو سچے کی زندگی میں ہلاک کرے ان کو آپ کی زندگی میں ہلاک کر دیا اور جن لوگوں نے کہا کہ جھوٹے کو سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جانا کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ جھوٹے کو لمبی مہلت دی جاتی ہے جیسا کہ مسلیمہ کذاب رسول کریم ﷺ کے بعد ہلاک ہوا ان کو اللہ تعالیٰٰ نے مہلت دی اور مسیلمہ کذاب کا مثیل وابت کر دیا- اس قسم کے نشانوں میں سے ایک مثالی مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری جو اخبار ااہلحدیث کے ایڈیٹر ہیں اور فرقہ اہلحدیث کے لیڈر کہلاتے ہیں یہ صاحب اپنی مخالفت میں حد سے بڑ گئے تو حضرت اقدسؑ نے بموجب حکم قرآنی فمن حاجک فیہ من بعد ماجاء ک من العلم فقل تعالوا ندا ابناء نا وابناء کم ونساء نا ونساء کم وانسا وانفسکم ثم نبتھل فجعل لعنت اللہ علی الکاذبین ان کو مباہلے کی دعوت دی مگر ان صاحب نے مباہلے میں اپنی خیریت نہ دیکھی اور باوجود بار بار اور مختلف رنگ میں غیرت دلائے جانے کے انہوں نے گریز کیا اور حضرت اقدسؑ نے ایک دعا لکھی اور ان سے چاہا کہ اپنے اخبار میں اس کو شائع کر دیں اور اس میں اس معیار کے ذریعے فیصلے کی خواہش ظاہر کی کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جائے- اس دعا پر بھی مولوی صاحب نے گریز کی راہ اختیار کی اور متواتر اور بڑے زور سے اپنے اخبار میں لکھنا شروع کیا کہ یہ ہرگز کوئی معیار نہیں اور میں اس طریق فیصلہ کو بالکل منظور نہیں کرتا کیونکہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹے کو لمبی مہلت دی جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کا فعل بھی اسی کی شہادت دیتا ہے- چنانچہ رسول کریم ﷺکے بعد مسیلمہ کذاب زندہ رہا- ان کے اس اعلان کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ نے ان کو ان کے بتائے ہوئے معیار کے مطابق پکڑا اور ان کو لمبی مہلت دیدی- حضرت اقدسؑ کی وفات کے بعد ان کو زندہ رکھا اور وہ اپنی تحریر کے مطابق مسیلمہ کذاب کے مثیل ثابت ہوئے اور ان کی زندگی کا ہر دن اللہ تعالیٰٰ کی قدرت کا ایک ثبوت اور ان کے مسیلمہ ہونے کی ایک زبردست دلیل ہوتا ہے- غرض اللہ تعالیٰ نے آپ کے دشمنوں کو ہر رنگ میں ہلاک اور ذلیل کیا جنہوں نے اس معیار کو تسلیم کیا ک جھوٹا سچے کی زندگی میں ہلاک ہوتا ہے ان کو آپ کی زندگی میں ہلاک کیا اور جنہوں نے اس پر زور دیا کہ جھوٹے کا یہ نشان ہوتا ہے کہ ہ لمبی مہلت پاتا ہے اور سچے کے بعد زندہ رکھا جاتا ہے ان کو لمبی مہلت دی اور حضرت اقدسؑؑ کے دشمنوں میں ابوجہل اور مسیلمہ