انوارالعلوم (جلد 7) — Page 31
انوار العلوم - جلدے ۳۱ تقریر جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۱۹۲۲ء -1 اس لئے احمدی ہو کر احمدیت کو بد نام کرنا نہیں چاہتا۔ جن سے میں نے رشوت لی ہے احمدی ہونے سے پہلے ان کو ادا کر دینا چاہتا ہوں۔ اس کے پاس چھ سات سو روپیہ تھا وہ اس نے دیدیا پھر اس نے پوچھا رشوت تو میں نے چار پانچ ہزار لی ہو گی مگر میرے پاس اور روپیہ نہیں کیا میں جدی جائداد بیچ کر ادا کر دوں؟ میں نے اسے لکھا جدی جائداد تو رشوت کے روپیہ سے نہیں بنی اس لئے اگر نہ دو تو حرج نہیں مگر اس نے لکھا کہ بہتر کونسی بات ہے ؟ میں نے لکھا بہتر تو یہی ہے کہ جن سے رشوت لی ہے ان کو واپس کرد و چنانچہ اس نے اپنی جائداد گرو رکھ کر رشوت واپس کردی۔ جو شخص اس عیب میں مبتلاء ہو اس کو ایسی ہی حالت پیدا کرنی چاہئے۔ دیکھو اگر ایک نہر کا پٹواری پانی چھوڑنے سے پہلے رشوت لیتا ہے تو جب وہ تبلیغ کرے گا اس کا کیا اثر ہو گا؟ ایک طرف تو وہ مالی طور پر دوسروں کو نقصان پہنچائے گا دوسری طرف اس کے اس فعل سے احمدیت کی اشاعت میں روک پیدا ہو گی اور اس کو دو گناہ ہوں گے ۔ اسی طرح سود لینا بھی بڑا حرام ہے اور مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری (11) سودلینا جماعت میں سے بعض لے لیتے ہیں۔ سود لینا مرتے کو مارنا ہوتا ہے کیونکہ جو پہلے ہی غربت کی وجہ سے قرض لیتا ہے اس سے سود لیا جاتا ہے ۔ سود دینا بھی عیب ہے مگر لینا اس سے بھی زیادہ عیب ہے غریب اور نادار سے ہمدردی ہونی چاہئے نہ کہ اس پر ظلم کرنا چاہئے؟ خدا تعالیٰ کے متعلق معاصی گناہوں کی تیسری قسم وہ گناہ ہیں جو ہستی باری تعالی سے تعلق رکھتے ہیں۔ شرک اس قسم کے گناہوں میں سے ایک گناہ شرک ہے۔ یہ گناہ عورتوں میں زیادہ پایا جاتا ہے اور بعض مردوں میں بھی وہ سجدہ کرنے لگ جاتے ہیں ۔ آج ہی ایک شخص نے باوجود روکنے کے سجدہ کر ہی دیا ۔ اسی طرح عورتوں میں سے بھی کئی اس کا ارتکاب کرتی ہیں۔ ہماری جماعت کے مردوں اور عورتوں کو چاہئے کہ کلی طور پر اس کو اپنے دلوں سے نکال دیں اور شرک ہر اس تو کل کا نام ہے جو خدا کے سوا دوسروں پر کیا جائے ۔ کفر پھر کفر کا گناہ بھی خدا تعالی سے تعلق رکھتا ہے مگر کفر یہی نہیں ہے کہ کوئی شخص -۲- کفر سارے غموں کو نہ مانے بلکہ قدر اور قیمت پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔ اگر کوئی ۔ ۔ محض خدا تعالیٰ، رسولوں اور ملائکہ پر تو اور ملائکہ پر تو ایمان رکھے مگر قیامت پر نہ رکھے تو وہ کفر کا مرتکب ہو گا۔