انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 484

۴۸۴ ہیں، مگر چونکہ علوم جدیدہ کا لازمی نتیجہ ہوتے ہیں کچھ عرصہ کے بعد علوم جدیدہ کے فروغ کے ساتھ ساتھ پھیلتے جاتے ہیں- حضرت اقدسؑ کے خیالات ان دونوں قسم کے خیالات کے مخالف تھے- آپ ان تعلیموں کی طرف لوگوں کو بلا رہے تھے جو نہ رائج الوقت خیالات کے مطابق تھیں اور نہ علوم جدیدہ کی تعلیم کے ذریعے جو خیالات پھیل رہے تھے ان کے مطابق تھیں اس لیے آپ کو دونوں فریق سے مقابلہ درپیش تھا پرانے خیالات کے لوگوں سے بھی اور جدید خیالات کے لوگوں سے بھی- قدامت پسند آپ کو ملحد قرار دیتے تھے اور علوم جدیدہ سے تعلق رکھنے والے لوگ آپ کو تنگ خیال اور رجعت قہقری کا ممد قرار دیتے تھے کیونکہ آپ اگر ایک طرف حیات مسیح ،قصص و روایات باطلہ ملائکہ کے متعلق عوام الناس کے خیالات، نسخ قرآن، دوزخ وجنت کے متعلق عوام الناس کے خیالات اور شریعت میں تنگی کے خلاف نہایت شدت سے وعظ کرتے تھے تو دوسری طرف احکام شریعت کی لفظاً پابندی، سود کی حرمت ،ملائکہ کے وجود ،دعا کے فوائد ،جنت ودوزخ کے حق ہونے ،،الہام کے لفظ مقررہ میں نازل ہونے اور معجزات کے حق ہونے کی تائید میں زور دیتے تھے- نتیجہ یہ تھا کہ نئے اور پرانے خیالات کے گروہوں میں کسی طبقہ سے بھی آپ کے خیالات نہیں ملتے تھے- پس یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ چونکہ آپ کے خیالات رائج الوقت یا آئندہ رواج پانے والے خیالات کی ترجمانی کرتے تھے اس وجہ سے مقبول ہوئے- خلاصہ کلام یہ کہ نہ تو آپ کی ذاتی حالت ایسی تھی کہ آپ کا دعویٰ قبول کیا جاتا نہ آپ کا رستہ پھولوں کی سیج پر سے تھا کہ آپ کو اپنے مطلب میں کامیابی کحاصل ہوتی اور نہ وہ خیالات جو آپ لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے ایسے تھے کہ ان سے لوگوں کے خیالات کی ترجمانی ہوتی ہو کہ لوگ آپ کو مان لیں- پس باوجود ان تمام مخالف حالات کے اگر آپ نے کامیابی حاصل کی تو یہ ایک خدائی فعل تھا نہ کہ دنیاوی اور طبعی سامانوں کا نتیجہ- ان حالات کے بیان کرنے کے بعد میں آپ کی کامیابیوں کا ذکر کرتا ہوں' میں بتا چکا ہوں کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت بیان فرمائی ہے کہ وہ جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ پر افتراء کرنیوالے کو لمبی مہلت نہیں دیا کرتا مگر آپ کے متعلق ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ان الہامات کے شائع کرنے کے بعد جن میں آپ نے مصلح ہونے کا اعلان کیا تھا قریباً چالیس سال زندہ رہے