انوارالعلوم (جلد 7) — Page 480
۴۸۰ کا کرے تو اس کو سزا بھی ملتی ہے اور وہ کسی صورت میں ہلاکت سے بچ نہیں سکتا- چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ولو تقول علینا بعض الاقاویل لاخذنا منہ بالیمین ثم لقطعنا منہ الوتین )سورہ حاقہ ع۲(45'46'47: یعنی اگر یہ رسول جان بوجھ کر ہم پر جھوٹ باندھ رہا ہوتا تو ہم اس کا دایاں بازو پکڑ لیتے اور اس کی رگ جان کاٹ ڈالتے- یعنی اس کی نصرت اور تائید کا دروازہ بند کر دیتے اور اسے ہلاکت کا منہ دکھاتے- اسی طرح ایک اور جگہ فرماتا ہے ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او کذب بایتہ انہ لا یفلح الظلمون )سورہ انعام ع۳(22: اور اس سے زیادہ ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھتا ہے یا اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلاتا ہے بات یہ ہے کہ ظالم کامیاب نہیں ہوتے یعنی جب کہ ظالم کامیاب نہیں ہوتا تو یہ اللہ تعالیٰ کا گنہگار جو سب قسم کے روحانی ظالموں سے زیادہ ظالم ہے کب کامیاب ہو سکتا ہے- مذکورہ بالا آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰٰ کی طرف سے دو قانون جاری ہیں ایک یہ کہ وہ اپنے رسولوں کی نصرت کرتا ہے اور ان کی مدد کرتا اور ان کو غلبہ دیتا ہے اور دوسرا یہ کہ جو لوگ یہ جانتے ہوئے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر افتراء کر رہے ہیں ایک بات جھوٹ بنا کر پیش کر دیں تو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد نہیں ملتی بلکہ وہ ہلاک کئے جاتے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ جو بات پہلے میں نے عقلاً ثابت کی تھی قرآن کریم بھی اس کی تائید کرتا ہے بلکہ اسے سنت اللہ قرار دیتا ہے- اس سنت الہیہ اور ازلی قانون کے مطابق ہم حضرت اقدسؑ علیہ الصلوہ والسلام کے دعوے پر غور کرتے ہیں تو آپ کی صداقت ہمیں روز روشن کی طرح ثابت نظر آتی ہے اور آپ کی کامیابی کو دیکھ کر اس امر میں کسی قسم کا شک وشبہ ہی نہیں رہتا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے فرستادہ اور مرسل ہیں- پیشتر اس کے کہ یہ دیکھا جائے کہ ۱) کو اللہ کی طرف سے کیا کیا نصرتیں اور تائیدیں حاصل ہوئیں- یہ دیکھنا ضروری ہو گا کہ آپ نے کن حالات کے ماتحت دعویٰ کیا تھا- یعنی وہ کون سے سامان تھے جو آ کی کامیابی میں ممد ہو سکتے تھے )۲( آپ کے راستے میں کیا کیا روکیں تھیں )۳( آپ کا دعویٰ کس قسم کا تھا یعنی کیا دعویٰ بطور خود ایسی کشش رکھتا تھا جس کی وجہ سے آپ کو ظاہری سامانوں پر نظر کرتے ہوئے کامیابی کی امید ہو سکے- سوال اول کا جوب یہ ہے کہ گو آپ ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے- اور ایسا ہونا