انوارالعلوم (جلد 7) — Page 477
انوار العلوم جلدے جائے موجب ثواب ہے۔ ۴۷۷ دعوة الامير آپ نے سود کی لعنت سے بچنے کی بھی مسلمانوں کو ہدایت کی اور بتایا کہ یہ حکم عظیم الشان حکمتوں پر مبنی ہے اس کو معمولی دنیاوی فوائد کی خاطر بدلنا نہیں چاہئے۔ پر اس اسی طرح آپ نے بتایا کہ دین کے مسائل دو طرح کے ہوتے ہیں ۔ ایک اصول اور ایک فروع - اصول قرآن کریم سے ثابت ہیں اور ان میں کوئی اختلاف واقع نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی شخص سمجھنا چاہے تو ان کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے اور جو فروعی مسائل ہیں ان کی دو حالتیں ہیں ایک یہ کہ رسول کریم ﷺ نے ایک خاص طریق پر ایک کام کرنے کا حکم دے دیا ہے اور اس کے سوا اور کسی طریق پر اس کے کرنے سے روک دیا ہے ۔ اس صورت میں تو اسی طریق کو اختیار کرنا چاہئے جس کے اختیار کرنے کا رسول کریم ال نے حکم دیا ہے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ رسول کریم ال سے دو یا دو سے زیادہ باتیں مروی ہیں اور مسلمانوں کے بعض حصے بعض روایتوں پر اور بعض حصے بعض روایتوں پر ہمیشہ عمل کرتے چلے آئے ہیں۔ ان کے بارہ میں یہ یقین رکھنا چاہئے کہ وہ سب طریق درست اور مطابق سنت ہیں کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو دوسرا کس طرح ممکن تھا کہ آپ کے صحابہ میں سے ایک حصہ ایک طریق کو اختیار کر لیتا اور دو حصہ دوسرے طریق کو ۔ اصل بات یہ ہے کہ بعض امور میں اختلاف طبائع کو مد نظر رکھ کر رسول کریم اللہ نے کئی طرح ان کے کرنے کی اجازت دے دی ہے یا خود کئی طریق پر بعض کاموں کو کر کے دکھا دیا ہے تاکہ لوگوں کے دلوں میں شک نہ رہے جیسے رفع یدین ہے کہ کبھی آپ نے رفع یدین کیا، کبھی نہیں کیا، یا آمین بالجہر ہے کہ کسی نے آپ کے پیچھے آمین بالجہر کہا کسی نے نہ کہا اور آپ نے دونوں طریق کو پسند کیا اسی طرح ہاتھوں کا باندھنا ہے کبھی کسی طرح باندھا کبھی کسی طرح باندھا۔ اب جس شخص کی طبیعت کو جس طریق سے مناسبت ہو اس پر کار بند ہو اور دوسرے لوگ جو دوسری روایت پر عمل کرتے ہیں ان پر حرف گیری نہ کرے کیونکہ وہ دوسری سنت یا رخصت پر عمل کر رہے ہیں غرض ان اصول کو مقرر کر ا کے آپ نے تمام وہ اختلافات اور فتنے دور کر دیئے جو مسائل فقیہ کے متعلق مسلمانوں میں پیدا ہو رہے تھے اور پھر صحابہ کرام کے زمانے کی یاد کو تازہ کر دیا ۔ یہ ایک مختصر نقشہ ہے اس اندرونی اصلاح کا جو آپ نے کی اگر اس کی تفصیل کی جائے تو مستقل کتاب اسی مضمون پر لکھنے کی ضرورت پیش آئے اس لئے میں اسی پر کفایت کرتا ہوں۔