انوارالعلوم (جلد 7) — Page 472
انوار العلوم جلدے ہر رسولی بود ظل دین پناه گر بدنیا آمدے میں خیل پاک ہر کہ شکر بعث شاں نارو بجا ۴۷۲ دعوة الامير ہر رسولی بود باغے مثمرے کار دیں ماندے سراسر ابترے بست او آلائے حق را کافرے آں ہمہ از یک صدف صد گوہر اند متحد در ذات و اصل و گوہرے اول آدم آخر شان احمد است اے خنک آنکس که بیند آخرے بست احمد زان همه روشن ترے انبیاء روشن گهر بستند لیک ره هر یکی از راہ مولی مخبرے بست اصل علمش از پیغمبری گو شود اکنون زنخوت منکرے آن ہمہ کان معارف بوده اند هر که را علمی از توحید حق است آن رسیدش از تعلیم ہا ہست قومی کج رو و ناپاک رائے آنکہ زمیں پاکان ہمی پیچد کرے دیده شان روئے حق هرگز ندید ہیں سیر کردند روئے دفترے شور بختی ہائے بخت شان یہ ہیں ناز بر چشم و گریزاں از خوری چشم گر بودی غنی از آفتاب کس نہ بودے تیز میں چوں شہرے چون بروز ابتدا تقسیم کرد در میان خلق از خیر و شرے در حصه او شمان فتاد دیگران را کذب شد آبش خورے قول شان این ست کا ندر غیر شان آمده صد کاذب و حیلت گرے لعل تابان را اگر کوئی کثیف راستی طعنه بر پاکان نه بر پاکان بود زین چه کاہد قدر روشن جو ہرے خود کنی ثابت کہ ہستی فاجرے ۲۰۶ ۔ پانچواں رکن ایمان کا بعث بعد الموت اور جنت و دوزخ پر ایمان لانا ہے اس رکن کے انہدام کیلئے بھی اس زمانے کے مسلمانوں نے پورا زور لگایا تھا دل تو یقیناً بعث بعد الموت کے منکر ہو چکے تھے کیونکہ اگر یہ نہ ہوتا تو اسلام کی تعلیم کو اس طرح پسِ پشت کیوں ڈال دیا جاتا ؟ ظاہری طور پر بھی لوگوں میں اس کے متعلق عجیب عجیب خیالات پھیل رہے تھے جنت کا جو نقشہ مسلمانوں کے ذہنوں میں سما گیا تھا وہ بتا رہا تھا کہ جنت کا اصل مفہوم لوگوں کے ذہنوں سے نکل چکا ہے ۔ جنت اب کیا چیز رہ گئی تھی ایک عیش و عشرت کا مقام گویا اس دنیا میں انسان کی پیدائش