انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 470

انوار العلوم جلدے ۴۷۰ دعوة الامير حدود کے اندر نہیں رہ سکتے تھے نیک نیتی کے ساتھ مناسب وقت احکام لوگوں کو دے دیئے الهام کا دعوئی درست نہ تھا مگر بوجہ نیت نیک ہونے کے اور اعلیٰ درجہ کی اخلاقی تعلیم پیش کرنے کے وہ قابل عزت ہیں اور باوجود اس قسم کے عقیدوں کے وہ مسلمان کہلاتے ہیں۔ حضرت اقدس مرزا غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاں اور عقائد کا رد کیا اور ان میں صحیح راستہ ہمیں بتایا وہاں ان خیالات کے متعلق بھی صحیح اسلامی تعلیم سے مسلمانوں اور دیگر لوگوں کو آگاہ کیا۔ آپ نے بتایا کہ انبیاء دنیا میں نیکی قائم کرنے کیلئے آتے ہیں اور اس لئے لوگوں کے لئے نمونہ ہوتے ہیں اگر وہ نمونہ نہ ہوں تو پھر ان کی بعثت کی کیا ضرورت ہے کیوں آسمان سے صرف کتاب ہی نازل نہ کی جائے ۔ نبیوں کی بعثت کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالی کے قول کو لوگ عمل میں آیا ہوا دیکھ لیں اور ان کی عملی تصویر سے لفظی حقیقت کو معلوم کریں اور ان کے نمونے سے جرأت حاصل کر کے نیکی کی راہ میں ترقی کریں۔ اور ان کی قوت قدسیہ سے طاقت حاصل کر کے اپنی کمزوریوں پر غالب آئیں۔ آپ نے دنیا کو تعلیم دی کہ لوگ انبیاء کی نسبت جن غلطیوں میں پڑے ہوئے ہیں اس کا سبب ان کی نافہمی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور بلا تحقیق اپنی بات کو پھیلانا شروع کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالی کے تمام نبی مَعْصُومُ عَنِ الْخَطَاءِ ہوتے ہیں وہ سچائی کا زندہ نمونہ اور وفا کی جیتی جاگتی تصویر ہوتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر ہوتے ہیں اور صفائی اور خوبصورتی سے اللہ تعالیٰ کی سہوحیت اور قدوسیت اور اس کے بے عیب ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں در حقیقت وہ ایک آئینہ ہوتے ہیں جس میں بدکار بعض دفعہ اپنی شکل دیکھ کر اپنی بد صورتی اور زشت روئی کو ان کی طرف منسوب کر دیتا ہے نہ آدم شریعت کا توڑنے والا تھا نہ نوح گنہگار تھا نہ ابراہیم نے کبھی جھوٹ بولا نہ یعقوب نے دھوکا دیا نہ یوسف نے بدی کا ارادہ کیا یا چوری کی یا فریب کیا نہ موسیٰ نے ناحق کوئی خون کیا نہ داؤد نے کسی کی بیوی ناحق چھینی نہ سلیمان نے کسی مشرکہ کی محبت میں اپنے فرائض کو بھلایا یا گھوڑوں کی محبت میں نماز سے غفلت کی نہ رسول کریم نے کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ کیا آپ کی ذات تمام عیوب سے پاک تھی اور تمام گناہوں سے محفوظ و مصون ۔ جو آپ کی عیب شماری کرتا ہے وہ خود ا۔ خود اپنے گند کو د کو ظاہر کرتا ہے یہ سب افسانے جو آر آپ کی نسبت مشہور ہیں بعض منافقوں کی روایات ہیں جو تاریخی طور پر ثابت نہیں ہو سکتے آپ کی باقی زندگی ان