انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 29

۲۹ وہی چور تھے۔ان میں سے ایک جلدی مرگیا اور دوسرا کسی اور جرم میں پکڑا گیا اور اس نے سزا پائی۔تمہیں چاہئے کہ جس طرح دوسرے لوگ چوری میں مشق کرتے ہیں تم سراغ رسانی میں مشق کرو اور چوروں کو پکڑو خواہ وہ ہندوستان کے دوسرے کنارے چلے جائیں۔اپنی سستی کی وجہ سے اپنے ایمانوں کو کیوں ضائع کرتے ہو۔(۷) مار پیٹ اسی طرح ایک عیب مار پیٹ ہے۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر مار پیٹ کرنے لگ جاتے ہیں۔بعض دفعہ کہتے ہیں فلاں نے گالی دی تھی اس لئے ہم نے مارا۔میں کہتا ہوں اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو تم زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے ہو کہ گالی دے لو اور اگر کسی نے گندی گالی دی ہے تو تم بھی نہیں کر سکتے صرف یہ کہہ دو کہ تو جھوٹا ہے اور یہ کہنا ٹھیک بھی ہے کیونکہ وہ جو گالی دیتا ہے وہ جھوٹ ہی ہوتا ہے۔بعض لوگ اگر ماریں نہ تو یہ کہہ دیتے ہیں میں یوں تمہاری خبر لوں گا، میں تمہارا سر پھوڑ دوں گا، مار دوں گامگر یہ ارادہ جرم بھی جرم ہے اگر مارنا نہیں تو یہ کہنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ کہتے ہیں کسی شخص کی کتیا نے بچے دیئے۔ایک شخص اس سے ایک بچہ مانگنے گیا۔کتیاوالے نے کہا بچے تو سب مر گئے ہیں لیکن اگر زندہ بھی ہوتے تو میں تم کو نہ دیتا۔اس نے کہایہ کہنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس طرح جب مارنانہیں تو ایسے الفاظ کہنے کی کیا ضرورت ہوتی ہے۔اس قسم کی ایک لڑائی کا ابھی تک مجھ پر اثر ہے۔میں بازار گیا تو دو ہندو آپس میں لڑ رہے تھے بچپن کی عمر کی وجہ سے میں اس نظارہ کو شوق سے دیکھنے لگا۔وہ ایک دوسرے کو یہی کہتے رہے کہ مار ڈالوں گا مگرمارا کسی نے نہیں اور آخر چپ ہو کر بیٹھ گئے۔آج تک اس واقعہ کا مجھ پراثر ہے۔مجھے یاد ہے کہ مجھے غصہ آتا تھا کہ اگر مارنا ہے تو ماریں یونہی منہ سے کیوں کہہ رہے ہیں۔اس طرح دهمکی دینا بھی ایک عیب ہے۔کیونکہ اس طرح دوسرے کو جوش دلایا جاتا ہے ممکن ہے یہ تو منہ سے ہی کہتار ہے اور دو سرامار بیٹھے۔(۸) گالی دینا ٍ گالی دینا بھی عیب ہے۔اس سے دوسروں کو تکلیف ہوتی ہے۔یہ طبعی بات ہے کہ انسان اپنے متعلق بری بات خواہ غلط ہو نہیں سننا چاہتا۔اس سے اسے تکلیف ہوتی ہے اس سے بچنا چاہئے۔بعض لوگوں کو تو گالیاں دینے کی اس قدر عادت ہوتی ہے کہ ایسی چیزوں کو گالیاں دینے لگ جاتے ہیں جو بے جان ہوتی ہیں یا گالیوں کو سمجھ نہیں سکتیں۔مثلاًذ را جوتی نہ ملے تو گالیاں دینے لگ جاتے ہیں یا جانور کو گالیاں دینی شروع کردیتے ہیں۔ایسے