انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 464

انوار العلوم جلدے ۴۶۴ دعوة الامير جس کیلئے وہ نازل کی گئی تھی اور اس کے اندر تغیر تسلیم کرنے کے یہ معنے ہیں کہ وہ ہمیشہ کیلئے بے اعتبار ہو گئی لیکن اگر ایسا ہوتا تو یہ بھی ضروری تھا کہ کوئی نبی اور کوئی نئی شریعت دنیا کی ہدایت کیلئے بھیجی جاتی تاکہ دنیا بلا شریعت کے نہ رہ جاتی۔ اسی طرح آپ نے ثابت کیا کہ قرآن کریم بلکہ ہر ایک اللہ کا کلام شیطانی تصرف سے پاک ہے یہ ہرگز ممکن نہیں کہ شیطان اللہ تعالیٰ کے کلام میں کچھ دخل دے سکے خواہ نبی کی زبان پر تصرف کر کے خواہ نبی کی آواز بنا کر اپنی زبان کے ذریعہ سے اور آپ نے اپنے تجربے سے بتایا کہ جب مجھ پر جو ایک غلام ہوں نازل ہونے والا کلام ہر ایک شک و شبہ سے پاک ہے تو کس طرح ممکن ہے کہ رسول کریم ال پر جو میرے آقا ہیں نازل ہونے والا کلام اور وہ بھی قرآن کریم جو ہمیشہ کیلئے ہدایت بنے والا تھا شیطانی اثر کو قبول کرے خواہ ایک آن کیلئے ہی سہی۔ آپ نے مسلمانوں کو بتایا کہ قرآن کریم یقینی کلام ہے اس کی حفاظت کا وعدہ اللہ تعالٰی نے کیا ہے اور اس وعدہ کا ایفاء اس رنگ میں اس نے کیا ہے کہ دشمن بھی اس کی حفاظت کے قائل ہیں پس اس کے مقابلے میں حدیث کو رکھنا اس کی گستاخی کرنا اور اس کو جان بوجھ کر رو کرنا ہے۔ جو حدیث قرآن کریم کے مخالف پڑتی ہے وہ ہرگز حدیث نبوی " نہیں ہو سکتی کیونکہ اللہ کا رسول اللہ کے کلام کے مخالف نہیں کہہ سکتا اور احادیث کی تدوین ایسی محفوظ نہیں ہے جیسا کہ قرآن کریم محفوظ ہے۔ پس قرآن کریم کو زبردستی حدیث کے ماتحت نہیں کرنا چاہئے بلکہ حدیث کو قرآن کریم کے ماتحت کرنا چاہئے اور اگر دونوں مطابق نہ ہو سکیں تو حدیث کو جو ممکن ہے کہ کسی انسان کی دانستہ یا نادانستہ دست برد سے خراب ہو چکی ہو چھوڑ دینا چاہئے۔ اور آپ نے ان لوگوں کے جواب میں جو یہ کہتے ہیں کہ پورا دین تو ہمیں حدیث سے معلوم ہوا ہے بتایا کہ حدیث اور قرآن کے علاوہ ایک تیسری چیز سنت ہے یعنی وہ کام جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کر کے دکھائے اور جو بلا واسطہ صحابہ نے آپ کو کرتے ہوئے دیکھ کر آپ سے سیکھے اور ان کے مطابق عمل کیا، کسی زبانی حدیث کی ان کیلئے ہمیں ضرورت نہیں ، ہزاروں لاکھوں مسلمانوں نے ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کو وہ کام کرتے ہوئے دیکھا اور ان سے اگلوں نے سیکھا یہ سنت کبھی قرآن کریم کے مخالف نہیں ہوتی ہاں حدیث جو زبانی روایت ہے وہ کبھی قرآن کے مخالف بھی ہو جاتی ہے اور اس میں شبہ کی گنجائش ہوتی ہے جب وہ قرآن کریم کے مخالف ہو تو وہ قابل رو ہے اور جب اس کے مطابق ہو قابل قبول ۔ کیونکہ تاریخی شہادت ہے اور