انوارالعلوم (جلد 7) — Page 460
انوار العلوم جلدے دعوة الامير ہو گئے تھے اور در حقیقت اسلام میں بلحاظ ایمان کہ قرآن کریم ہی اصل ہے کیونکہ دوسری کتب پر ایمان لانا تو صرف اصولی طور پر ہے ورنہ وہ نہ موجود ہیں اور نہ ان پر ان کی موجودہ شکل میں عمل کرنے کا حکم ہے ۔ قرآن کریم کے متعلق مسلمانوں کے جو عقائد ہیں ان کو دیکھ کر مجھے سخت حیرت ہوتی ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ یہ حیرت مجھے صرف اس سبب سے ہے کہ میں نے مسیح موعود پر ایمان لا کر اس سے اصل حقیقت کو معلوم کر لیا ہے ورنہ میں بھی دوسرے لوگوں کی طرح قرآن کریم کے متعلق کسی نہ کسی غلطی کا مرتکب ہو تا بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ قرآن کریم رسول کریم کے بعد معاہی عملاً دنیا سے اٹھایا گیا اور اس کا ایک بیشتر حصہ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ دنیا سے مفقود ہو گیا ہے بعض کے نزدیک جو موجودہ قرآن ہے اس میں بھی انسانی تصرفات کا اثر موجود ہے بعض لوگ اس قسم کے خیالات کو تو سختی سے رد کرتے ہیں اور ان کو کفر قرار دیتے ہیں لیکن خود اس قسم کے اور خطرناک عقائد پیش کرتے ہیں۔ مثلا یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم کا کچھ حصہ منسوخ شدہ ہے اور منسوخ قرار دینے کا ذریعہ انہوں نے یہ قرار دیا ہے کہ جو آیت دوسری آیت کے خلاف معلوم ہو وہ منسوخ ہے نتیجہ یہ ہوا کہ کسی کو بعض اور آیتوں میں اختلاف نظر آیا ہے اور کسی کو بعض اور میں۔ اس نے ان کو منسوخ قرار دے دیا اور اس نے ان کو اور قرآن کریم کا ایک معتد بہ حصہ منسوخ قرار پا کر قابل عمل نہیں رہا نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذلك۔ اس طریق سے میں نقصان نہیں ہوا کہ قرآن کریم کے بعض حصے منسوخ قرار پا گئے بلکہ ایک خطرناک اثر اس کا یہ ہوا کہ طبائع میں یہ خلجان پیدا ہو گیا ہے کہ جب کہ اس کے اندر بعض حصے منسوخ ہیں بعض غیر منسوخ اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے یہ نہیں بتایا کہ کونسا حصہ منسوخ ہے اور کونسا حصہ منسوخ نہیں تو اس کتاب کا اعتبار ہی کیا رہا، ہر شخص کو جو حصہ پسند آیا اس نے اسے اصل قرار دے دیا اور دوسرے کو منسوخ قرار دے دیا۔ دوسرا خطرناک عقیدہ کتب الہیہ کے متعلق اور خصوصاً قرآن کریم کے متعلق یہ پیدا ہو گیا ہے کہ یہ کلام بھی شیطان کی دست برد سے پاک نہیں اور کہا جاتا ہے کہ بعض دفعہ ہے کہ بعض دفعہ شیطان الهام الہی میں دخل دیتا ہے اور آ دیتا ہے اور آیت وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلَا نَبِيِّ إِلَّا إِذَا تَمَتَّى الْقَى الشَّيْطَنُ فِي فِي أُمْنِيَّتِهِ ۲۰۰ سے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ ہر نبی کے کلام کو سنتے وقت شیطان نے