انوارالعلوم (جلد 7) — Page 28
انوار العلوم - جلدے ۲۸ تقریر جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۱۹۲۲ء اور اگر پتہ لگ جائے تو کہہ دیتے ہیں ہم نے تو ہنسی کی تھی مگر ایسی ہنسی جائز نہیں جو جھوٹ ہو اور جس کی وجہ سے دوسرے کو نقصان پہنچ جائے ۔ پس ہر قسم کے دھوکا سے بچنا چاہیے خصوصا ہنسی کے نام سے جو دھوکا کیا جاتا ہے اس سے ۔ کیونکہ عام طور پر لوگ اسے جائز سمجھتے ہیں حالانکہ یہ بھی جائز نہیں۔ سرے کو ایسا (۵) قتل پانچواں گناہ قتل ہے۔ یہ بھی گناہ قتل ہے۔ یہ بھی خطرناک جرائم میں سے ہے اس سے دوسرے کے نقصان پہنچایا جاتا ہے جس کا کوئی تدارک نہیں ہو سکتا کیونکہ قاتل مقتول کے نیک اعمال کو ضائع کر دیتا ہے ۔ ہماری جماعت میں جان سے قتل کر دینے کا عیب تو خدا کے فضل سے نہیں ہے مگر قتل کے یہی معنی نہیں کہ کسی کو جان سے مار دیا جائے بلکہ اور بھی ہیں۔ مثلاً اگر کوئی کسی سے ایسے رنگ میں ناراض ہو تا یا نقصان پہنچاتا ہے کہ وہ برباد ہو جاتا ہے تو یہ بھی قتل ہے یا اگر تم کسی کو اس طرح مارتے ہو کہ مار ڈالنے کی نیت نہیں مگر وہ مر جاتا ہے تو یہ بھی قتل ہی ہے۔ اس کی بھی سزا رکھی گئی ہے اس لئے چاہئے کہ تم کسی کے مارنے کے لئے ہاتھ ہی نہ اٹھاؤ سوائے خود حفاظتی کے موقع کے ۔ ایک چوری کا عیب ہے۔ گجرات اور گوجرانوالہ کے اضلاع میں لوگ (۶) چوری جانوروں کی چوری کو چوری نہیں سمجھتے۔ کہتے ہیں دوسرے ہمارے جناور لے جاتے ہیں اور ہم ان کے لیے آتے ہیں مگر یہ بھی چوری ہے۔ جیسے سیندھ لگا کر زیور یا روپیہ نکال لینا چوری ہے اسی طرح جانور نکال کر لے جانا بھی چوری ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم اس طرح نہ کریں تو تباہ ہو جائیں گے دوسرے ہمارے جانور لے جائیں گے اور ہم خالی ہاتھ بیٹھے رہیں گے مگر مکہ والے بھی رسول کریم ال کو یہی کہتے تھے ۔ خدا تعالیٰ ان کو زجر کرتا ہے کہ جب خدا کے لئے ایسا کرو گے تو کیوں کٹ جاؤ گے ۔ پس تم میں سے بھی کوئی حضرت مسیح موعود کے پاک اور صاف جبہ پر داغ نہ لگائے۔ دیکھو ہر ایک عیب عیب ہی ہے مگر بعض کمینہ عیب ہوتے ہیں۔ ایک عیب شہوت کی وجہ سے کیا جاتا ہے وہ بھی عیب ہی ہے مگر اس کے کرنے والے کا عذر بھی تو ہے ۔ مگر کمینہ عیب اس سے بھی برا ہوتا ہے اور اس قسم کی چوری کا عیب کمینہ اور خسیس عیب ہے اس کی محریک کوئی ضرورت طبعی نہیں۔ تم اس کے لئے احمدیت کو بد نام نہ کرو۔ اگر تم اس سے بچو گے تو خدا تعالیٰ تمہارا مددگار ہو گا۔ ہمارے گھوڑے چوری ہو گئے اور جن کو پکڑا گیا وہ قسمیں کھا کر چھوٹ گئے اور ہم نے ان کی بات مان لی۔ مگر بعد میں معلوم ہوا کہ