انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 459

انوار العلوم جلدے ۴۵۹ دعوة الامير عشق میں مبتلاء ہو سکتی ہے اور اللہ کو بھلا کر عذاب الہی میں مبتلاء ہو سکتی ہے ۔ اگر ما ہو ملائکہ گناہ میں مبتلاء ہو سکتے ہیں تو ان پر ایمان لانے کا حکم کیوں دیا جاتا ہے کیونکہ ایمان لانے کے تو معنی ہی یہ ہوسکتے کا ہوتے ہیں کہ جس پر ایمان لایا جائے اس کی باتوں کو مانا جائے ۔ جو لوگ نافرمانی کر سکتے ہیں ان پر ایمان لانے کا حکم دینا گویا خو د ہلاک ہونے کا حکم دینا ہے۔ اسی طرح آپ نے بتایا کہ ملائکہ روحانی وجود ہیں وہ ادھر ادھر دوڑے دوڑے نہیں پھرتے بلکہ جس طرح سورج اپنی جگہ سے روشنی دیتا ہے وہ بھی اپنے مقام سے اللہ تعالی کے احکام کو بجالاتے ہیں اور ان طاقتوں کی مدد سے جو ان کی اطاعت میں لگائی گئی ہیں سب کام کرتے ہیں۔ اور آپ نے اس خیال کو بھی رو کیا ہے کہ ابلیس ملائکہ کا استاد یا یہ کہ ملائکہ کے ساتھ رہنے والا وجو د تھا وہ تو ایک خبیث روح تھی۔ اللہ تعالی فرماتا ہے ۔ وَكَانَ مِنَ الْكَفِرِينَ ١٩٩ اس کا دل پہلے ہی اللہ تعالٰی کا منکر تھا۔ A آپ نے اس خیال کی غلطی کو بھی دور کیا کہ ملائکہ وہمی وجود ہیں یا طاقتوں کو کہتے ہیں۔ آپ نے اپنے تجربہ اور مشاہدہ کی بناء پر ملائکہ کا وجود ثابت کیا اور ان لوگوں کی جہالت کو ظاہر کیا جو اس بات کو تو مانتے ہیں کہ ظاہری آنکھوں کی مدد کے لئے اللہ تعالی نے سورج کو پیدا کیا اور آواز پہنچانے کے لئے ہوا کو بنایا اور اس سے اللہ تعالی کے قادر ہونے پر حرف نہیں آیا لیکن کہتے ہیں کہ روحانی امور کے سر انجام دینے کے لئے اس نے اگر کوئی وسائط پیدا کئے ہیں تو اس سے اس کی قدرت پر حرف آتا ہے اور خود ان کے عقیدے سے ان کو ملزم قرار دیا اور ان کے اقرار سے ان کو پکڑا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ کا وسائط کو پیدا کرنا اس لئے نہیں کہ وہ اپنے احکام کو بندے تک پہنچا نہیں سکتا بلکہ اس لئے ہے کہ بندہ اللہ کا کلام سننے کے لئے وسائط کا محتاج ہے اور اس لئے کہ یہ وسائط بندے کی ترقیات میں محمد اور معاون ہوتے ہیں غرض آپ نے ایمان کے دوسرے رکن کے متعلق جو خرابیاں مسلمانوں میں پیدا ہو گئی تھیں ان کو خوب اچھی طرح دور کیا اور ملائکہ کے وجود کو اس صورت میں ظاہر کیا جس صورت میں کہ اللہ اور اس کے رسول نے ان کو پیش کیا تھا۔ تیسرا رکن ایمان کا کتب سماویہ ہیں ان کی نسبت بھی مسلمانوں کے ایمان بالکل متزلزل ہو چکے تھے اور عجیب در عجیب خیالات مسلمانوں میں کتب سماویہ خصوصاً قرآن کریم کے متعلق پیدا