انوارالعلوم (جلد 7) — Page 456
۴۵۶ صفات مخصوصہ میں سے ہے۔اسے مسیح علیہ السلام کس طرح کر سکتے تھے۔اُحْيِالْمَوْتٰی ( آل عمران ع) کے الفاظ قرآن سے د ھوکا کھاتے ہیں ، لیکن جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ الفاظ استعمال ہوتے ہیں کہ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اسْتَجِیْبُوْالِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ(انفال ع ۳) اے مومنو!اللہ اور اس کے رسول کی بات کو قبول کرلیا کرو جب ان میں سے کوئی تم کو بلائے تا کہ تم کو زندہ کرے تو اس وقت اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ زندگی سے مراد رُوحانی زندگی ہے۔جب احیاء کے معنے روحانی زندگی دینے کے بھی ہوتے ہیں اور جبکہ اللہ تعالیٰٰ کے سوا کوئی مردے زندہ نہیں کر سکتا اور جبکہ اس دنیا میں مردے زندہ کر کے اللہ بھی نہیں بھیجتا۔تو پھر کیوں احیاء کے وہ معنی نہیں لیتے۔جو کلام الٰہی کے مطابق ہوں اور جن سے شرک نہ پیدا ہوتا ہو۔اسی طرح یہ موحد کہلانے والے لوگ یقین رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح پرندے پیدا کیا کرتے تھے۔حالانکہ قرآن کریم میں پڑھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰٰ کے سوا کوئی شخص کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتا وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَھُمْ یُخْلِقُوْنَ (سورہ نحل ) ن آدمیوں کو لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ خود پیدا کئے گئے ہیں۔اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰہِ شُرَکَآئَ خَلَقُوْ کَخَلْقَہٖ فَتَشَابَہَ الْخَلْقُعَلَیْْہِمْ قُلِ اللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْْء ٍ وَہُوَ الْوَاحِدُ الْقَہَّار(سورہ رعد ع۲) کیا وہ اللہ کے سوا شریک مقرر کرتے ہیں جن کی صفت یہ ہے کہ انہوں نے بھی اللہ کی طرح مخلوق پیدا کی ہے اور اب ان لوگوں کی نظروں میں اللہ تعالیٰ کی اور ان کی مخلوق مشتبہ ہوگئی ہے کہدے کہ اللہ ہی سب چیزوں کا خالق ہے اور وہ ایک ہے ہر چیز اس کی تصرف میں ہے۔اسی طرح فرماتا ہے اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِاجْتَمِعُوْا لَہٗ( حج ع۱۰) وہ لوگ کہ تم ان کو اللہ کے سوا پکارتے ہو ہرگز پیدا نہیں کر سکتے ایک مکھی بھی۔گو سب کے سب جمع ہو جائیں اور مسیح علیہ السلام بھی انہیں لوگوں میں سے ہیں جن کو لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں۔غرض باوجود اس کے قرآن کریم میں یہ بات صریح طور پر موجود ہے کہ اللہ کے سوا اور کوئی کچھ نہیں پیدا کر سکتا اور اگر کوئی ایسا کرے تو وہ سچا معبود ہے۔اَخْلُقُ لَکُمْ مِنْ الطِّیْنِ کَھَیْئَۃِ الطَّیْرِ کے وہ معنے کرتے ہیں جو قرآن کریم کی