انوارالعلوم (جلد 7) — Page 452
۴۵۲ لائے تھے۔سنو! علم اس طرح جاتا ہے کہ عالم دنیا سے گزر جاتے ہیں اور آپؐ نے یہ فقرہ تین دفعہ بیان فرمایا۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک وقت امت محمدیہ نہایت خطر ناک حالت کو اختیار کرنے والے ہے جبکہ علم دنیا سے اٹھ جائے گا، لین ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ایک فرقہ ایسا ہوگا جو حق پر ہوگا اور وہ فرقہ ہوگا جو صحابہؓ کے رنگ میں رنگین ہوگااور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہؓ کے رنگ میں رنگین صرف مسیح موعود کی جماعت ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ اس امت کا پہلا حصہ اچھا ہے یا آخری۔پس مَااَنَا عَلَیْہِ وَاَصْحَابِیْ سے مراد مسیح موعود کی جماعت ہو کیونکہ کوئی جماعت صحابہؓ کی طرح نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ کسی مرسل من اللہ کی صحبت یافتہ نہ ہو۔خلاصہ کلام یہ کہ مذکورہ بالا احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ امت محمدیہ میں سے علم اور دین کے مٹ جانے پر مسیح موعود کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ پھر اسلام کو قائم کرنے کا وعدہ کر چکا ہے۔پس مسیح موعود ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ شخص جو مدعی ہو اسلام کی اصل تعلیم کوقائم کرنے والا اورقرآن کریم کے صحیح علوم بیان کرنے والال ہو اور اگر وہ ایسا نہ کرے و مسیح موعود نہیںہو سکتا اور جو آخری زمانے کے پر فتن ایام میں اسلام کی تعلیم کو لوگوں کے خیالات سے پاک کرے اور اس کی خوبی کودنیا میں ظاہرے اورمَااَنَا عَلَیْہِ وَاَصْحَابِی کا نظارہ دکھا وے، اس کے کے سواکوئی اور شخص مسیح موعود نہیں ہوسکتا اور جبکہ یہ بات ثابت ہوگئی تو مسیحیت کے مدعی کے دھوکے کو پرکھنے کے لئے ایک راہ ہمارے لئے یہ بھی کھل گئی ، ہم دیکھیں کہ کیا فی الواقع اسلام اس وقت سرتاپا اپنی اصل شکل کو چھوڑ چکا ہے۔دوسرے یہ کہ کیا اس شخص نے فی الواقعہ اس کو اس کی اصل صورت میں دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے۔اسلام کا بالکل بدل جانا اور اپنی حقیقت سے دور ہوجانا تو ایسا مسئلہ ہے جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں کوئی عقلمند بھی اس کا منکر نہ ہوگا اور کوئی منکر بھی کب ہو سکتا ہے جب کہ خدا تعالیٰ کا اصل ثابت کر رہا ہے کہ اس وقت مسلمان مسلمان نہیں رہے اور پھر اسلام کی موجود شکل جو خود مسلمانوں کو تسلی نہیں دے سکتی وہ آپ اس امر کی گواہ ہے کہ اسلام اس وقت بگڑ چکا ہے پس صرف یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ کیا حضرت اقدسؑ مرزا غلام احمد ؐ صاحب نے حقیقی اسلام