انوارالعلوم (جلد 7) — Page 451
۴۵۱ اسلام کے آثار اس ترقی کے شاہد ہیں جو اسلام پرچلنے کے سبب سے مسلمانوں کو حاصل ہوئی تھی اور یہ بھی نہیں کہ آج کل کوئی اسلام پر عمل نہیں کرتا۔اسلام کے جو معنے لوگ سمجھتے ہیں اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔بعض لوگ چلہ کشی کرتے کرتے اپنی جان دے دیتے ہین مگر ان کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔پس ایک ہی بات رہ گئی اور وہی اصل باعث ہے کہ اسلام کا مفہوم لوگوں کے ذہنوں میں بدل گیا ہے اور سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق لَمْ یَبْقَ مِنَ الْاِسْلَامِ اِلاَّ اِسْمُہٗ آج اسلام کا صرف نام باقی رہ گیا ہے اور زمانہ نبویؐ سے بُعد کی وجہ سے لوگوں نے مغز اسلام کو بالکل بدل دیا ہے اور اب موجود شکل میں اپنے پیروؤں کے اندر وہ تبدیلی کے پیدا کرنے سے قاصر ہے جو پہلے پیدا کیا کرتا تھا اور موجود شکل میں دوسرے ادیان کے پیروؤں کے دلوں پر بھی کچھ اثر نہیں کرسکتا اور گو کبھی کبھی اس کے محوشدہ آثار کسی سعید فطرت کے دل کوصداقت کی طرف مائل کردیں مگر بطور قاعدہ اب اس کا وہ اثر نہیں جو پہلے ہوا کرتا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے بھی اس امر کی تصدیق ہوتی ہے آپ فرماتے ہیں تَفْتَرِقُ اُمَّتِیْ عَلٰی ثَلَاثٍ وَّ سَبْعِیْنَ مِلَّۃٌ کُلُّھُمْ فِیْ النَّارِ اِلاَّ وَاحِدَۃً قَالُوْا مَنْ ھِیَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ مَا اَنَا عَلَیْہِ وَاَصْحَابِیْ (مشکوۃ باب الاعتصام بالسنۃ۔بحوالہ ترمذی) یعنی ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی ، ان میں سے سوا ایک کے باقی سب آگ میں ڈالے جائیں گے لوگوں دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہوں گے جو حق پر ہوں گے آپؐ نے فرمایا کہ وہ لوگ جو اس طریق پر ہوں گے جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں۔اسی طرح آپؐ فرماتے ہیں کہ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ خُذُوْا مِنَ الْعِلْمِ قَبْلَ اَنْ یُّقْبَضَ الْعِلْمُ وَقَبْلَ اَنْ یُّرْفَعَ الْعِلْمُ۔قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ کَیْفَ یَرْفَعُ الْعِلْمُ وَھٰذَالْقُرْاٰنُ بَیْنَ اَظْھُرِنَا فَقَالَ اَیْ تَکِلَتْکَ اُمُّکَ وَھٰذَالْیَھُوْدُ وَالنَّصَارٰی بَیْنَ اَظْھُرِ ھِمُ الْمَصَاحِفُ لَمْ یُصْبِحُوْا یَتَعَلَّقُوْنَ بِالْحَرْفِ مِمَّاجَآئَ تْ بِہٖ اَنْبِیَآؤُھُمْ اَلاَ وَاِنَّ وَّھَابَ الْعِلْمِ اَنْ یَّذْھَبَ حَمَلَتْہٗ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ یعنی اے لوگو! علم حاصل کرو قبل اس کے کہ علم اٹھا لیا جائے۔دریافت کیا گیا کہ یا رسول اللہ! علم کس طرح اٹھا لیا جائے گا ؟ حالانکہ قرآن ہمارے پاس موجود ہے آپؐ نے فرمایا۔اسی طرح ہوگا۔تیری ماں تجھ پر ماتم کرے۔کیا دیکھتے نہیں کہ یہود و نصاریٰ کے پاس کتابیں موجود ہیں لیکن وہ اس تعلیم کے ساتھ کچھ بھی تعلق نہیں رکھتے جو ان کے انبیاء