انوارالعلوم (جلد 7) — Page 440
انوار العلوم جلدے ۴۴۰ دعوة الامير وغیرھا ھا اسلامی آثار کی بھی آپ نے زیارت کی تھی اور سب سے بڑھ کر یہ بات معلوم ہوئی کہ باوا صاحب کا ایک کوٹ ہے جو سکھ صاحبان میں بطور تبرک رکھا ہوا ہے اور انہیں کے قبضہ میں ہے اس میں سور و آیات قرآنیہ جیسے سورۃ اخلاص و آیت الکرسی و آیت إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الاسلام ۱۸۰ لکھی ہوئی ہیں اور کلمہ شہادت بھی جلی قلم سے لکھا ہوا ہے ۔ سکھ صاحبان بوجہ عربی سے ناواقفیت کے اس کلام کو آسمانی رموز سمجھتے رہے اور یہ نہ معلوم کر سکے کہ یہ باوا صاحب علیہ الرحمتہ کا اعلان اسلام ہے ۔ آ اسلام ہے ۔ آپ نے ان زبردست دلا ست دلائل کو جو خود سکھ صاحبان کی کتب سے سے مستنبط ہیں یا ان کے پاس جو تبرکات محفوظ ہیں ان پر ان کی بنیاد ہے بڑے : رے زور شور سے سکھوں میں پھیلانا شروع کیا اور ان کو توجہ دلائی کہ باو اصاحب علیہ الرحمہ مسلمان تھے ۔ یہ حربہ سکھوں کے اندر تغیر پیدا کرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہو چکا ہے اور امید ہے کہ جوں جوں سکھ صاحبان اصل حقیقت سے واقف ہوں گے ان پر ثابت ہوتا جائے گا کہ وہ ہمارے بچھڑے ہوئے بھائی ہیں اسلام ہی ان کا مذہب ہے اور وہ کئی سو سال پہلے کے سیاسی جھگڑوں کو جن کا اصل باعث جیسا کہ تاریخوں سے ثابت ہوتا ہے مسلمان نہ تھے بلکہ ہند و صاحبان تھے دین حق کی قبولیت کے راستے میں روک نہ بننے دیں گے بلکہ اپنی مشہور بہادری سے کام لے کر تمام عوائق کو دور کر کے ست سری اکال کے نعرے لگاتے ہوئے اسلام کی صف میں آکھڑے ہوں گے اور بٹالے کے پر گنہ میں ظاہر ہونے والے مصلح پر ایمان لا کر اور مومنوں کی جماعت میں شامل ہو کر کفر و بدعت کے مقابلہ میں ہمہ تن مشغول ہو جائیں گے۔ ہے آ دوسرے تیسرا حربہ جس سے آپ نے اسلام کو دیگر ادیان پر غالب کر دیا اور جس کی موجودگی میں کوئی مذہب اسلام کے سامنے سر نہیں اٹھا سکتا یہ ہے کہ آپ نے دنیا کا نقطہ نظر بالکل بدل دیا آپ کے دعوے سے پہلے تمام مذاہب کی بحث اس طرز پر ہوتی تھی کہ ہر ایک دو مذہب کے پیروؤں کو جھوٹا قرار دیتا تھا الا مَا شَاءَ اللهُ یہودی حضرت مسیح کو، مسیحی رسول کریم اس کو زرتشتی ان تینوں مذاہب کے انبیاء کو اور ان تینوں مذاہب کے پیرو زرتشتیوں کے انبیاء کو پھر یہ چاروں دوسری دنیا کے سب بزرگوں کو اور ان کی اقوام کے لوگ ان چاروں مذاہب کے بزرگوں کو جھوٹا قرار دیتے تھے ۔ یہ عجیب قسم کی جنگ تھی جس میں ہر قوم دوسری قوم سے لڑ رہی تھی مگر عقلمند آدمی کو سب مذاہب میں ایسے ثبوت ملتے تھے جن سے ان کا سچا ہونا ثابت ہوتا تھا۔ پس وہ حیران تھا کہ سب مذاہب کے اندر سچائیاں پائی جاتی ہیں