انوارالعلوم (جلد 7) — Page 437
۴۳۷ کے لئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاص ہتھیار عطا فرمائے، مگر باقی تمام مذاہب کے لئے ایک ہی ایسا ہتھیار دیا جس کی زد سے کوئی مذہب بچ نہیں سکتا اور ہر مذہب کے پیرو اسلام کا شکار ہو گئے ہیں وہ ہتھیار یہ ہے کہہ ہر مذہب کے پہلے بزرگوں کے ذریعے اللہ تعالیٰٰ نے اخری ایام دنیا میں ایک مصلح کی خبر دے رکھی تھی اور اس خبر کی وجہ سے سب مذاہب ایک نبی یا اوتار یا جو نام بھی اس کا انہوں نے رکھا تھا اس کے منتظر تھے اور اپنی تمام ترقیات کو اس سے وابستہ سمجھتے تھے، ہندوؤں میں بھی ایسی پیشگوئیاں تھیں اور زرتشتیوں میں بھی تھیں اور دیگر چھوٹے بڑے ادیان کے پیروؤں میں بھی تھیں اور ان سب پیشگوئیوں میں آنے والے موعود کا زمانہ بھی بتایا گیا تھا، یعنی چند علامات اس کے زمانے کی بطور شناخت بتا دی گئی تھیں اللہ تعالیٰٰ نے مسیح موعود پر یہ کھول دیا کہ یہ جس قدر پیشگوئیاں ہیں اور ان میں جو علامات بتائی گئی ہیں سب ملتی جلتی ہیں اور اگر بعض پیشگوئیوں میں بعض دوسریوں سے زائد علامات بھی بتائی گئی ہیں تو وہ بھی اسی زمانے کی طرف اشارہ کر رہی ہیں جس طرف کہ باقی علامات پس یہ تمام نبی یا اوتار ایک ہی زمانے میں آنیوالے ہیں- اب ادھر تو ان پیشگوئیوں کا ہزاروں سالوں کے بعد اس زمانے میں آکر پورا ہو جانا بتاتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھیں، انسان یا شیطان کی طرف سے نہ تھیں کیونکہ آیت فلایظھر علی غیبہ احد الا من ارتضی من رسول )جن رکوع :۲۸،۲۷( اس کا فیصلہ کر رہی ہے اور دوسری طرف یہ بالکل خلاق عقل ہے کہ ایک ہی زمانے میں ہر قوم اور ملت میں اللہ تعالیٰٰ کی طرف سے رسول یا نبی یا اوتار کھڑے کئے جاویں جن کا یہ کام ہو کہ وہ اس قوم کو دوسری اقوام پر غالب کریں گویا خدا کے نبی ایک دوسرے کے مقابلہ کریں اور پھر یہ بھی ناممکن ہے کہ ایک ہی وقت میں ہر قوم دوسری اقوام پر غالب آجائے- پس ایک طرف ان پیشگوئیوں کا سچا ہو کر ثابت ہونا کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور دوسری طرف ان کا مختلف وجودوں پر پورا ہو کر باعث فساد بلکہ خلاف عقل ہونا اس بات پر شاہد ہے کہ درحقیقت ان تمام پیشگوئیوں میں ایک ہی وجود کی خبر دی گئی تھی اور اللہ تعالیٰٰ کا منشاء یہ تھا کہ پہلے اقوام عالم میں ایک وجود کا انتظار کرائے اور جب وہ آجائے تو اس کے منہ سے اسلام کی صداقت کی شہادت دلا کر ان ادیان کے پیروؤں کو اسلام میں داخل کرے اور اسلام کو ان ادیان پر غالب کرے- پس مہدی کوئی نہ تھا مگر مسیح اور کرشن کوئی نہ تھا مگر مسیح، زردشتیوں کا میسودر بہمی کوئی نہ تھا مگر وہی جو کرشن ، مہدی اور مسیح تھا اور اسی طرح اقوام کے موعود درحقیقت ایک ہی