انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 428

انوار العلوم جلدے ۴۲۸ دعوة الامير ۱۶۵ مَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَ تَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَ تَقْرِى الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ١١٥، ہرگز نہیں ، ہرگز نہیں۔ خدا کی قسم اللہ تجھ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا تو تو رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتا ہے اور بیکس کا بوجھ اٹھاتا ہے اور وہ اخلاق فاضلہ جو اس زمانے میں بالکل مفقود تھے تجھ میں پائے جاتے ہیں اور تو مہمان کی مہمان داری کرتا ہے اور لوگوں کی جائزہ مصائب میں ان کی مدد کرتا ہے۔ غرض نبی کی صداقت کی پہلی اندرونی دلیل اس کا نفس ہوتا ہے جو بزبان حال اس کی سچائی پر گواہ ہوتا ہے اور اس کی گواہی ایسی زبردست ہوتی ہے کہ اس کی موجودگی میں کسی اور معجزہ یا آیت کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی اور یہ دلیل حضرت مرزا غلام احمد صاحب کی سچائی ثابت کرنے کیلئے بھی اللہ تعالی نے اتاری ہے ۔ آپ قادیان کے رہنے والے تھے جس میں ہندوستان کے تینوں مذاہب کے پیرو یعنی ہندو، سکھ اور مسلمان بستے ہیں گویا آپ کی زندگی کے نگر ان تین قوموں کے آدمی تھے۔ آپ کے خاندانی تعلقات ان لوگوں سے ایسے نہ تھے کہ ان کو آپ سے کچھ ہمدردی ہو کیونکہ آپ کی ابتدائی عمر کے ایام میں انگریزوں نے اس ملک پر قبضہ کر لیا تھا اور ان کی آمد کے ساتھ ہی قادیان کے باشندوں نے جو آپ کے آباء واجداد کی رعایا میں سے تھے اس انقلاب حکومت سے فائدہ اٹھا کر اپنی آزادی کیلئے جد وجہد شروع کر دی اور آپ کے والد کے ساتھ تمام قصبے کے باشندوں کے تنازعات اور مقدمات شروع ہو گئے تھے ۔ یہ بھی نہیں کہ آپ ان مقدمات سے علیحدہ تھے باوجود آپ کی خلوت پسندی کے آپ کے والد صاحب نے حکما کچھ عرصہ تک کیلئے آپ کو ان مقدمات کی پیروی کیلئے مقرر کر دیا تھا جس کی وجہ سے بظاہر آپ ہی لوگوں کے مد مقابل بنتے تھے ۔ سکھوں کو خاص طور پر آپ کے خاندان سے عداوت تھی کیونکہ کچھ عرصہ کے لئے آپ کے خاندان کو اس علاقے سے نکال کر وہی یہاں حاکم بن گئے تھے پس اس خاندان کی ترقی ان پر شاق گزرتی تھی اور ایک قسم کی رقابت ان کے دلوں میں تھی۔ آپ کو ابتدائی عمر سے اسلام کی خدمت کا شوق تھا اور آپ مسیحی ، ہندو اور سکھ مذاہب کے خلاف تقریرا اور تحریر امباحثات جاری رکھتے تھے جس کی وجہ سے ان مذاہب کے پیروؤں کو طبعاً آپ سے پر خاش تھی۔ مگر باوجود اس کے کہ سب اہل مذاہب سے آپ کے تعلقات تھے اور سب سے مذہبی