انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 426

انوار العلوم جلدے ۴۲۶ دعوة الامير مجھے جھوٹا کہہ کر تمہارے ہاتھ سے وہ تمام ذرائع نہیں نکل جائیں گے جن کے ساتھ تم کسی چیز کی حقیقت معلوم کیا کرتے ہو ؟ اور کیا مفتری قرار دے کر تم پر وہ سب دروازے بند نہیں ہو جائیں گے جن میں سے گزر کر تم شاہد مقصود کو پایا کرتے ہو ۔ دنیا کی ہر چیز تسلسل چاہتی ہے اور ہر شئے مدارج رکھتی ہے نہ نیکی درمیانی مدارج کو ترک کر کے اپنے کمال تک پہنچ سکتی ہے اور نہ بدی در میانی منازل کو چھوڑ کر اپنی انتہاء کو پاسکتی ہے پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ مغرب کی طرف دوڑنے والا اچانک اپنے آپ کو مشرق کے دور کنارے پر دیکھے ؟ اور جنوب کی طرف جانے والا افق شمال میں اپنے آپ کو کھڑا پائے؟ میں نے اپنی سب زندگی تم میں گزاری ہے۔ میں چھوٹا تھا اور تمہارے ہاتھوں میں بڑا ہوا میں جوان تھا اور تمہارے ہاتھوں میں ادھیڑ ہوا میری خلوت و جلوت کے واقف بھی تم میں موجود ہیں ، میرا کوئی کام تم سے پوشیدہ نہیں اور کوئی قول تم سے مخفی نہیں پھر کوئی تم میں سے ہے جو یہ کہہ سکے کہ میں نے کبھی جھوٹ بولا ہو یا ظلم کیا ہو یا فریب کیا ہو یا و ھو کا دیا ہو یا کسی کا حق مارا ہو یا اپنی بڑائی چاہی ہو یا حکومت حاصل کرنے کی کوشش کی ہو، ہر میدان میں تم نے مجھے آزمایا اور ہر حالت میں تم نے مجھے پر کھا مگر ہمیشہ میرے قدم کو جادہ اعتدال پر دیکھا اور ہر کھوٹ سے مجھے پاک پایا حتی کہ دوست اور دشمن سے میں نے امین و صادق کا خطاب پایا پھر یہ کیا بات ہے کہ کل شام تک تو میں امین تھا، صادق تھا، راستباز تھا، جھوٹ سے کوسوں دور تھا راستی پر فدا تھا بلکہ را اتھا بلکہ راستی مجھ پر فخر کرتی تھی ، ہر بات اور ہر معاملہ میں تم مجھ پر اعتبار کرتے تھے اور میرے ہر قول کو تم قبول کرتے تھے مگر آج ایک دن میں ایسا تغیر ہو گیا کہ میں بدتر سے بد تر اور گندے سے گندا ہو گیا یا تو گیا یا تو کبھی آدمیوں پر جھوٹ جھوٹ نہ باندھا تھا یا اب ار ھا تھا یا اب اللہ پر جھوٹ باندھنے لگا اس قدر تغیر اور اس قدر تبدیلی کی کیا قانون قدرت میں کہیں بھی مثال ملتی ہے ؟ ایک دو دن کی بات ہوتی تو تم کہہ دیتے کہ تکلف سے ایسا بن گیا سال دو سال کا معاملہ ہو تا تو تم کہتے ہمیں دھوکا دینے کو اس نے یہ طریق اختیار کر رکھا تھا مگر ساری کی ساری عمر تم میں گزار چکا ہوں ، بچپن کو تم نے دیکھ لیا جوانی کو تم نے مشاہدہ کیا کہولت کا زمانہ تمہاری نظروں کے سامنے گزرا اس قدر تکلف اور اس قدر بناوٹ کس طرح ممکن تھی۔ بچپن کے زمانے میں جب اپنے بھلے برے کی بھی خبر نہیں ہوتی میں نے بناوٹ کس طرح کی جوانی جو دیوانی کہلاتی ہے ، ہے اس میں میں نے فریب سے اپنی حالت کو کس طرح چھپایا، آخر کچھ تو سوچو کہ یہ قریب کب ہوا اور کس نے کیا اور اگر غور و فکر کر کے میری زندگی کو بے عیب اور بے لوث ہی نہ پاؤ بلکہ تم اسے نیکی کا مجسمہ اور صداقت کی تمثال