انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 24

انوار العلوم - جلدے ママ تقریر جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۱۹۲۲ء پھر بے غیرتی بھی گناہ ہے۔ مومن کے اندر غیرت ہونی چاہیئے اس کے (۸) بے غیرتی ماتحت ہر کام کرنے کے لئے اسے تیار رہنا چاہئے۔ بے غیرتی کے یہی معنی نہیں ہیں کہ بعض اخلاقی باتوں میں جن میں لوگ سمجھتے ہیں کہ بے غیرتی دکھائی گئی ہے بے غیرتی کی جائے بلکہ تمام کاموں میں بے غیرتی ہو سکتی ہے۔ مثلاً لوگ اسلام پر حملے کریں اور ایک شخص ان کو سنتار ہے اور اسلام کے لئے کچھ نہ کرے تو یہ بھی بے غیرتی ہے۔ جب لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جان دینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں تو پھر کیوں دین کے لئے غیرت نہ دکھائی جائے ۔ ایسے لوگوں کو جب کہا جائے کہ تم نے بے غیرتی دکھائی ہے تو وہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم نے تو کوئی حیاء کے خلاف کام نہیں کیا مگر اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے حیا سوز کام کی غلط تشریح کر لی ہے۔ دین کے لئے غیرت دکھانا بھی ایک مسلمان کا فرض ہے۔ پس میں آپ لوگوں کو نصیحت کروں گا کہ جہاں بھی جس کام کے لئے آپ کھڑے : آپ کھڑے ہوں اس میں جو رو میں جو رو وکیں پیدا ہوں ان کو دور کرنے کی کوشش کریں اور اس وقت تک صبر نہ کریں جب تک ساری روکیں دور نہ ہو جائیں۔ غیرت کے متعلق حضرت مسیح موعود کا ایک واقعہ ہے۔ لاہور میں آریوں کا جلسہ تھا جس میں حضرت خلیفہ اول کو امیر بنا کر آپ نے چند لوگوں کو اس میں شمولیت کے لئے بھیجا تھا میں بھی گیا تھا۔ اس میں حضرت مسیح موعود کا مضمون پڑھا گیا تھا اس کے بعد آریوں نے بھی مضمون سنایا جس میں رسول کریم کو سخت گالیاں دی گئی تھیں۔ میری اگرچہ اس وقت چھوٹی عمر تھی تاہم میں وہاں سے چلنے لگا کہ گالیاں نہ سنوں مگر ایک شخص نے مجھے پکڑ لیا اور کہا کہ باہر جانے کا راستہ نہیں ہے یہیں بیٹھے رہیں۔ مجھے ابھی تک افسوس ہے کہ میں کیوں بیٹھا رہا اور کیوں نہ چلا آیا۔ جب جلسہ کے بعد حضرت خلیفہ اول قادیان میں آئے اور حضرت مسیح موعود نے جلسہ کے حالات سنے تو آپ سخت ناراض ہوئے اور مولوی صاحب کو بار بار فرماتے کہ کیوں آپ وہاں بیٹھے رہے آ۔ آپ تو عالم تھے آپ کو ایسی مجلس سے فوراً چلے آنا چاہئے تھا۔ کئی مجلسوں میں آپ میں ذکر فرماتے رہے آخر بہت سی ناراضگی کے بعد آپ نے معاف فرمایا ۔ غرض مومن میں غیرت ہونی چاہئے۔ دیکھو بے غیرتی نے ہی پیغامیوں کو تباہ کیا ہے۔ خواجہ صاحب نے کہیں لیکچر دیا اور لوگوں نے اس کی تعریف کر دی تو پھر وہ خواہ حضرت مسیح موعود کو کافر کہتے اس کی بھی پرواہ نہ کی جاتی اور کوئی حرج نہ سمجھا جاتا۔ اس طرح ان لوگوں میں بے غیرتی پیدا ہو گئی اور اس کی وجہ سے ان کے اندر سے ایمان نکل گیا۔ پس یاد رکھو کہ جن وجودوں کی