انوارالعلوم (جلد 7) — Page 419
انوار العلوم جلدے ۴۱۹ دعوة الامير میں شبہ تدلیس وغیرہ کا نہیں کیا جا سکتا، تیسری خصوصیت اس نشان میں یہ ہے کہ جو علامتیں اس میں بتائی گئیں ہیں پہلی کتب میں بھی انہی علامتوں کے ساتھ مسیح کی آمد ثانی کی خبر دی گئی ہے چنانچہ انجیل میں آتا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے اپنی آمد کی نشانیوں میں سے ایک یہ علامت بھی بتائی ہے کہ اس وقت سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا ۱۵۰۔ جس کا مطلب دوسرے الفاظ میں یہ ہے کہ سورج اور چاند کو اس کے زمانے میں گرہن لگے گا۔ " ۱۵۱ گو میں ان پیشگوئیوں کو بیان کر رہا ہوں جن کا احادیث میں ذکر آتا ہے مگر میں اس جگہ اس بات کا ذکر کرنا غیر محل نہیں سمجھتا کہ قرآن کریم میں قرب قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت سورج اور چاند گرہن کی بیان کی گئی ہے۔ سورۃ القیامہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بشئلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيمَةِ فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (١٥، (منكر) پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہے ؟ ہم اس کی علامتیں بتاتے ہیں وہ تب ہوں گی جب آنکھیں متحیر رہ جائیں گی ، یعنی ایسے حادثات ہوں گے کہ انسان کو حیرت میں ڈال دیں گے اور چاند کو گرہن لگے گا اور پھر سورج اور چاند جمع کر دیئے جائیں گے یعنی اسی ماہ میں چاند گرہن کے بعد سورج گرہن ہو گا چونکہ مسیح کی آمد بھی قیامت کے قریب زمانے میں بتائی گئی ہے اس لئے قرآن کریم سے بھی مذکورہ بالا حدیث کے مضمون کی تائید ہوتی ہے۔ غرض جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے یہ پیشگوئی خاص اہمیت رکھتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ ۱۳۱۱ھ مطابق ۱۸۹۴ء میں یہ پیشگوئی بعینہ انہیں الفاظ میں پوری ہو گئی ہے جن الفاظ میں کہ احادیث میں اسے بیان کیا گیا تھا یعنی اس سن کے رمضان میں چاند گرہن کی تاریخوں میں سے پہلی یعنی تیرھویں تاریخ کو چاند گرہن لگا اور سورج گرہن کی تاریخوں میں سے درمیانی یعنی اٹھائیسویں تاریخ کو سورج کو گرہن لگا اور ایک ایسے آدمی کے زمانے میں لگا جو مہدویت کا دعویٰ کر رہا تھا۔ پس ہر ایک مسلمان کہلانے والے کیلئے دو راستوں میں سے ایک کا اختیار کرنا فرض ہو گیا یا تو وہ اس کلام نبوی پر ایمان لاوے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ نشان کہ اس کے زمانے میں چاند اور سورج کو گرہن لگنے کی پہلی اور درمیانی تاریخوں میں گرہن لگے گا سوائے مہدی کے اور کسی کے لئے ظاہر نہیں کیا گیا اور جس کی تائید قرآن کریم اور پہلے انبیاء کی کتب سے بھی ہوتی ہے اور اس شخص کو قبول کرے جس کے دعوائے مہدویت کے بعد اللہ تعالٰی نے یہ نشان ظاہر کیا یا پھر خدا اور اس کے رسول کو چھوڑ دے کہ انہوں نے ایک ایسی علامت مہدی کی