انوارالعلوم (جلد 7) — Page 23
۲۳ ہوئے تھے اٹھ بیٹھے اور فرمایا۔خواجہ صاحب! آپ کو کیا پتا ہے خدا کے شیر پر ہاتھ ڈالنا آسان ہیں۔میں خدا کا شیر ہوں کوئی ہاتھ ڈال کر تو دیکھے؟ مومن نرم مزاج ہوتا ہے انگریزوں نہیں ہو گا اور سوائے خدا کے کسی سے نہیں ڈرتا تم بھی بزولی کو اپنے دلوں سے نکال دو۔بعض کہیں گے کہ وہ تو بزدل نہیں مگرمیں بتاتا ہوں کہ کس طرح کسی کی بزدلی اور بہادری کا پتہ لگتا ہے۔(۱) مثلاً وہ کسی جگہ ملازم ہے لیکن وہ لوگوں کو تبلیغ کرے تو افسر ناراض ہوتا ہے اس ڈر کی وجہ سے اگر وہ تبلیغ کرنے سے رکتا ہے تو بزدل ہے اگر دلیر ہوتا تو کبھی کسی کے ڈر کی وجہ سے تبلیغ سے نہ رکتا۔اگر ایک سپاہی چند روپوں کے بدلے میں میدان جنگ میں جان دے دیتا ہے تویہ شخص یوں نہیں کہہ سکتا کہ نوکری جاتی ہے تو جائے مگر میں تبلیغ سے نہیں رک سکتا۔کیا وہ خدا کے لئے نوکری نہیں قربان کر سکتا؟ اگر نہیں کر سکتا تو معلوم ہوا کہ وہ بزدل ہے دلیر نہیں ہے۔(۴) اسی طرح اگر کوئی شخص رسوم اور بدعتوں کو لوگوں کے ڈر کی وجہ سے چھوڑ نہیں سکتاتو بزدل ہے۔(۳) اگر کوئی چندہ دینے سے اس لئے ڈرتا ہے کہ اس کے مال میں کمی آجائے گی تو وہ بزدل ہے کیونکہ بزدل کی یہ تعریف ہے کہ جو کام اس کے ذمہ لگایا گیا ہو اسے ڈر کر چھوڑ دے۔اس تعریف کے ماتحت اگر تم اپنے نفوں کا مطالعہ کرو گے تو تمہیں بآسانی معلوم ہو جاۓ گا کہ تم بزدل ہو یا نہیں اور جو اپنے آپ کو بزدل پاۓ اسے چاہئےکہ بزدلی کو چھوڑ دے اور بہادر بنے۔(۷)فخرادر خیلاء پھر فخر اور خیلاء بھی ایک مرض ہے اس سے بھی انسان کی روح پہلی سے گر جاتی ہے کیونکہ فخر کرنے والا دوسروں کو حقیر قرار دیکر خود بڑا بننا چاہتا ہے مگر خود گر جاتا ہے۔بظا ہر فخرکر نا معمولی بات معلوم ہوتی ہے اور لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ کیا ایسے موقع پر ہم جھوٹ بولیں اور بات نہ کہیں ؟ مگر یاد رکھنا چا ہیے کہ فخریہ جو کچھ کہا جائے وہ سچ نہیں ہو سکتا اور آج تک فخر کرنے والے بھی ایسے نہیں ہوئے جو دوسروں کو گرا کر اپنے آپ کو بڑا نہ بنانا چاہیں۔ایسے انسان جو اپنے متعلق سب کچھ کہتے ہیں مگر ان کے لئے کوئی نہیں کہہ سکتاکہ فخر کرتے ہیں وہ صرف نبی ہی ہوتے ہیں۔پس سوائے نبیوں کے اور کوئی ایسا انسان نظر نہیں آیا کہ جو فخربھی کرے اور دوسروں کو حقیر بھی نہ کرے اس لئے یہ بھی ایک مرض ہے اس سے بھی بچنا چاہئے۔